Seo Services
قرآن کریم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں قرآن کریم

قرآن اور جدید سائنس

جولائی 19, 2019


 کائنات کی تخلیق :بگ بینگ

 (Big Bang):

فلکی طبیعیات کے ماہرین ابتدائے کائنات کی وضاحت ایک ایسے مظہر کے ذریعے کرتے ہیں جسے وسیع طور پر قبول کیا جاتا ہے اور جس کا جانا پہچانا نام ’’بگ بینگ‘‘ یعنی عظیم دھماکا ہے۔ بگ بینگ کے ثبوت میں گزشتہ کئی عشروں کے دوران مشاہدات و تجربات کے ذریعے ماہرین فلکیات و فلکی طبیعیات کی جمع کردہ معلومات موجود ہیں۔ بگ بینگ کے مطابق ابتدا میں یہ ساری کائنات ایک بڑی کمیت کی شکل میں تھی، (جسے Primary nebula بھی کہتے ہے) پھر ایک عظیم دھماکا یعنی بگ بینگ ہوا، جس کا نتیجہ کہکشانوں کی شکل میں ظاہر ہوا۔ پھر یہ کہکشانیں تقسیم ہو کر ستاروں، سیاروں، سورج، چاند وغیرہ کی صورت میں آئیں۔ کائنات کی ابتدا اس قدر منفرد اور اچھوتی تھی کہ اتفاق سے اس کے وجود میں آنے کا احتمال صفر (کچھ بھی نہیں) تھا۔

قرآن پاک کی درج ذیل آیات میں ابتدائے کائنات کے متعلق بتایا گیا ہے:


”        أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ [6]
ترجمہ: ’’اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا‘‘


اس قرآنی آیت اور بگ بینگ کے درمیان حیرت انگیز مماثلت سے انکار ممکن ہی نہیں ! یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک کتاب جو آج سے 1400سال پہلے عرب کے ریگستانوں میں ظاہر ہوئی، وہ اپنے اندر ایسی غیر معمولی سائنسی حقیقت لیے ہوئے ہو۔

پھیلتی ہوئی کائنات:
1925ء میں امریکی ماہر طبیعیات ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے اس امر کا مشاہداتی ثبوت فراہم کیا کہ تمام کہکشانیں ایک دوسرے سے دور ہٹ رہی ہیں، جس کا مطلب یہ ہو کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ بات آج مسلمہ سائنسی حقائق میں شامل ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ قرآن پاک میں کائنات کی فطرت اور خاصیت کے حوالے سے کیا ارشاد ہوتاہے:

”        وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ[7]
ترجمہ: ’’اور آسمانی کائنات کو ہم نے بڑی قوت کے ذریعہ سے بنایا اور یقیناً ہم (اس کائنات کو) وسعت اور پھیلاؤ دیتے جا رہے ہیں‘‘


عربی لفظ ’’موسعون‘‘ کا صحیح ترجمہ ’’ہم وسعت اور پھیلاؤ دیتے جا رہے ہیں‘‘ بنتا ہے اور یہ ایک ایسی کائنات کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی وسعتیں مسلسل پھیلتی جا رہی ہوں۔ عصر حاضر کا مشہور ترین فلکی طبیعیات دان اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) اپنی تصنیف اے بریف ہسٹری آف ٹائم میں لکھتا ہے۔ یہ دریافت کہ کائنات پھیل رہی ہے، بیسویں صدی کے عظیم علمی و فکری انقلابات میں سے ایک ہے۔

غور فرمائیے کہ قرآن پاک کے کائنات کے پھیلنے کو اس وقت بیان فرما دیا ہے جب انسان نے دوربین تک ایجاد نہیں کی تھی، اس کے باوجود متشکک ذہن رکھنے والے بعض لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن پاک میں فلکیاتی حقائق کا موجود ہونا کوئی حیرت انگیز بات نہیں کیونکہ عرب اس علم میں بہت ماہر تھے۔ فلکیات میں عربوں کی مہارت کی حد تک تو ان کا خیال درست ہے لیکن اس نکتے کا ادراک کرنے میں وہ ناکام ہوچکے ہیں کہ فلکیات میں عربوں کے عروج سے بھی صدیوں پہلے ہی قرآن پاک کا نزول ہو چکا تھا۔

علاوہ ازیں اوپر بیان کردہ بہت سے سائنسی حقائق، مثلا بگ بینگ سے کائنات کی ابتدا وغیرہ سے تو عرب اس وقت بھی واقف نہیں تھے جب وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے عروج پر تھے لہٰذا قرآن پاک میں بیان کردہ سائنسی حقائق کسی بھی طرح سے فلکیات میں عربوں کی مہارت کا نتیجہ قرار نہیں دیے جا سکتے۔ درحقیقت اس کے برعکس بات سچ ہے، عربوں نے فلکیات میں اس لیے ترقی کی کیونکہ فلکیاتی مباحث کو قرآن پاک میں اہم مقام دیا گیا ہے۔[2]

نباتیات (Botany)
پودوں میں نر اور مادہ:
پرانے زمانے کے انسان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ پودوں میں بھی جانوروں کی طرح نر(male) اور مادہ (female) ہوتے ہیں۔ البتہ جدید نباتیات یہ بتاتی ہے کہ ہر پودے کی نر اور مادہ صنف ہوتی ہے۔ حتٰی کہ وہ پودے جو یک صنفی (Unisexual) ہوتے ہیں۔ ان میں بھی نراور مادہ کے امتیازی اجزاء یکجا ہوتے ہیں۔
وَّ اَنْذَ لَ مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً ط فَاَ خْرَجْنَا بِہ اَزْ وَا جًا مِّنْ نَّبَا تٍ شَتّٰی ہ[8]
ترجمہ:۔ اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور اس میں ہم نے مختلف اقسام کے پودوں کے جوڑے پیدا کیے جو ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں۔

پھلوں میں نر اور مادہ کا فرق:
وَ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ جعَلَ فِیْھَا زَوْ جَیْنِ اثْنَیْن[9]
ترجمہ :۔ اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں۔
اعلٰی درجے کے پودوں میں نسل خیزی (Reproduction) کی آخری پیدا وار ان کے پھل ہوتے ہیں۔ پھل سے پہلے پھول کا مرحلہ ہوتا ہے جس میں نراور مادہ اعضاء یعنی اسٹیمنز (Stamens) اور اوویولز (Ovueles) ہوتے ہیں جب کوئی زردانہ (Pollen) کسی پھول تک پہنچتا ہے، تبھی وہ پھول بارآور ہو کر پھل میں بدلنے کا قابل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ پھل پک جاتا ہے اور (اس پودے کی ) اگلی نسل کو جنم دینے والے بیج سے لیس ہو کر تیار ہو جاتا ہے۔ لہٰذا تمام پھل اس امر کا پتہ دیتے ہیں کہ (پودوں میں بھی) نر اور اعضاہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جسے قرآن پاک بہت پہلے بیان فرما چکا ہے۔
پودوں کی بعض انواع میں غیر بارآور (non fertilized) پھولوں سے بھی پھل بن سکتے ہیں۔ (جنہیں مجموعی طور پرپارتھینوکارپک فروٹ (parthinocarpic fruit) کہا جاتا ہے) ان میں کیلے کے علاوہ انناس، انجیر، مالٹا اور انگور وغیرہ کی بعض اقسام شامل ہیں۔ ان پودوں میں بھی بہت واضح صنفی خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔
وَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ خَلَقْنَا زَوْ جَیْنِ[10]
ترجمہ:۔ اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں۔
اس آیت مبارکہ میںہر چیز کے جوڑوں کی شکل میں ہونے پر زور دیا گیا ہے۔ انسانوں، جانوروں، پھلوں اور پودوں کے علاوہ بہت ممکن ہے کہ یہ آیت مبارکہ بجلی کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہو کہ جس میں ایٹم منفی بار والے الیکٹرونوں اور مثبت بار والے مرکزے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے جوڑے ہو سکتے ہیں۔
سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْ وَاجَ کُلَّھَا وَ مِمَّا تُنْبِت ُ الْاَرْضُِ وَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ ہ[11]
ترجمہ:۔ پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں سے یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں۔
یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر چیز جوڑوں کی شکل میں پیدا کی گئی ہے، جن میں وہ چیزیں بھی شامل ہیں۔ جنہیں آج کا انسان نہیں جانتا اور ہو سکتا ہے کہ آنے والے کل میں انہیں دریافت کرلے۔

حیوانیات (Zoology)
جانوروں اور پرندوں میں معاشرے کا وجود
وَمَا مِنْ دَ آ بَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰئِر یَطِیْرُ بِجَنَا حَیْہِ اِلَّآ اُ مَمُ اَمْثَا لُکُمْ
ترجمہ:۔ زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو یہ سب تہماری طرح کے معاشروں میں(رہتے )ہیں ۔[12]
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جانور اور پرندے بھی معاشروں (communities) کی شکل میں رہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ان میں بھی ایک اجتماعی نظم و ضبط ہوتا ہے۔ وہ مل جل کر رہتے ہیں اورکام بھی کرتے ہیں۔

پرندوں کی پرواز
اَ لَمْ یَرَ وْ ا اِ لَی الطَّیْرِ مُسَخَّرٰ تٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآ ئِ ط مَا یُمْسِکُھُنَّ اِ لّا اللّٰہ ُط اِ نَّ فِی ذَ ٰلِکَ لَاٰ یٰتٍ لِّقَوْ مٍٍ یُّئْو مِنُوْنَ ہ [13]
ترجمہ:۔ کیا ان لوگوں نے کھبی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کس طرح مسخر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کس نے انکو تھام رکھا ہے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔
ایک اور آیت مبارکہ میں پرندوں پر کچھ اس انداز سے بات کی گئی ہے۔
اَوَ لَمْ یَرَوْ ا اِ لَی الطَّیْرِ فَوْ قَہُمْ صٰفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ ط مَا یَمْسِکُھُنَّ اِ لَّا الرَّ حْمٰنِ ط اِ نَّہ بِکُلِّ شَیْئٍ م بَصِیْرُ ہ[14]
ترجمہ :۔ یہ لوگ اپنے اوپر اُڑنے والے پرندوں کو پر پھیلاتے اور سیکٹرتے نہیں دیکھتے؟ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو۔ وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔
عربی لفظ اَم'سَکَ کا لفوی ترجمہکسی کے ہاتھ میں ہاتھ دینا، روکنا، تھامنا یا کسی کی کمر پکٹر لینا ہے۔ مذکورہ بالاآیت میں یمسکھن سے اس بات کا اظہار ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور اپنے اختیار سے پرندوں کو ہوا تھامے رکھتا ہے۔ ان آیات ربانی میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ پرندوں کے طرز عمل کا مکمل انحصار انہی قوانین پر ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا ہے۔ (جنہیں ہم قوانین فطرت کے نام سے جانتے ہیں)
جدید سائنسی معلومات سے ثابت ہو چکا ہے کہ بعض پرندوں میں پرواز کی بے مثل اور بے عیب صلاحیت کا تعلق اس وسیع تر اور مجموعی منصوبہ بندی (programming) سے ہے جو انکی حرکات و سکنات سے متعلق ہے۔ مثلا ہزاروں میل دور تک نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی جینیاتی رموز (Genetic codes) میں ان کے سفر تمام کی تفصیلات و جزیّات موجو د ہوتی ہیں۔ جو ان پرندوں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ نہایت کم عمری میں بھی لمبے سفر کے کسی تجربے کے بغیر، کسی رہنما کے بغیر ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر لیں اور پیچیدہ راستوں سے پرواز کرتے چلے جائیں۔ بات صرف سفر کی یک طرفہ تکمیل ہی ہر ختم نہیں ہو جاتی۔ بلکہ وہ ایک مخصوص تاریخ پر اپنے عارضی مسکن سے پرواز کرتے ہیں اور ہزاروں میل واپسی کا سفر کرکے ایک بار پھر اپنے گھو نسلوں تک بالکل ٹھیک ٹھیک جا پہنچتے ہیں۔
پروفیس ہمبر گر(Humberger) نے اپنی کتاب پاور اینڈ فریجیلٹی میں مٹن برڈ نامی ایک پرندے کی مثال دی ہے جو بحر الکاہل کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ نقل مکانی کرنے والا یہ پرندہ 24,000(چوبیس ہزار) کلو میٹر کا فاصلہ 8کی شکل میں چکر لگا کر طے کرتا ہے۔ یہ اپنا سفر چھ ماہ میں پورا کرتاہے اور مقام ابتدا تک زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کی تاخیر سے واپس پہنچ جاتا ہے۔ ایسے کسی سفر کے لیے پیچیدہ معلومات کا ہونا ضروری ہے۔ جو اس پرندے کے اعصابی خلیات (nervous cells) میں محفوظ ہونی چائیں۔ یعنی ایک باضابطہ پروگرامکی شکل میں پرندے کے جسم میں موجود اور ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہے۔ اگر پرندے میں کوئی پروگرام ہے تو کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہو تاکہ اسے تشکیل دینے والے کوئی پروگرامر بھی یقینا ہے۔

شہد کی مکھی اور اس کی مہارت
وَ اَوْ حٰی رَ بُّکَ اِ لَی النَّحْلِ اَنِ ا تَّخِذِ یْ مِنَ الْجِبَا لِ بُیُوْ تًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِ شُوْ نَ ہ ثُمَّ کُلِیْ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰ تِ فَا سْلُکِیْ سُبُلَ رَ بِّکِ ذُ لُلًا ط [15]
ترجمہ:اور دیکھو تہمارے رب نے شہد کی مکھی پر یہ بات وحی کر دی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اُونچی چھتریوں پر اپنے چھتے ّ بنا تے اور ہر طرح کے پھولوں کا رس چوستے اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ۔
وان فرش (Von Frisch) نے شہد کی مکھیوں کے طرز عمل اور ان میں رابطہ وابلاغ (Communication) کی تحقیق پر 1973ء میں نوبل انعام حاصل کیا۔ شہد کی کسی مکھی کو جب کوئی نیا باغ یا پھول دکھائی دیتا ہے تو وہ اپنے چھتے میں واپس جاتی ہے اور اپنی ساتھی شہد کی مکھیوں کو اُس مقام کا ٹھیک ٹھیک سمت اور وہاں پہنچنے والے راستے کے مفصّل نقشے سے آگاہ کرتی ہے۔ شہد کی مکھی، پیغام رسانی کا یہ کام خاص طرح کی جسمانی حرکات سے لیتی ہے جنہیں شہد کی مکھی کا رقص (Bee dance) کہا جاتا ہے ظاہر ہے کہ یہ عام معنوں والا رقص نہیں ہوتا بلکہ اس کا مقصد شہد کی کارکن مکھیوں (Worker bee) کو یہ سمجھانا ہوتا ہے کہ پھول کس سمت ہیں اور وہاں تک پہنچنے کے لیے انہیں کس انداز سے پرواز کرنا ہو گی۔ تا ہم شہد کی مکھی کے بارے میں یہ ساری معلومات ہم نے جدید فوٹو گرافی (photography)اور دیگر پیچیدہ مشاہداتی ذرائع ہی سے حاصل کی ہیں۔ لیکن ملا حظہ فرمائیے کہ مذکورہ بالا آیات مبارکہ میں قرآن عظیم وشان نے کتنی صراحت کے ساتھ یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کو خاص طرح کی مہارت عطا فرمائی ہے جس سے لیس ہو کر وہ اپنے رب کے بتائے ہوئے راستے تلاش کر لیتی ہے۔ ایک اور توبہ طلب نکتہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیات مبارکہ میں شہد کی مکھی کے لیے جو صنف استعمال کی گئی ہے، وہ مادہ (female) کی ہے (یعنی، فَاسُلِکی اور کُلی) اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غذا کی تلاش میں نکلنے والی شہد کی مکھی مادہ ہوتی ہے۔ بالفاظ دیگر سپاہی یا کارکن شہد کی مکھی بھی مادہ ہی ہوتی ہے۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ شکسپیر(Shakespear) کے ڈرامے 'ہنری دی فورتھ میں بعض کردار شہد کی مکھیوں کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ (شہد کی) مکھیاں سپاہی ہوتی ہیں اور یہ کہ اُنکا بادشاہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ شکسپیسر کے زمانے میں لوگ یہی سمجھتے تھے۔ اُنکا خیال تھا کہ شہد کی کارکن مکھیاں نر ہو تی ہیں اور وہ شہد کی بادشاہ مکھی (نر) کو جو ابدہ ہوتی ہیں۔ لیکن یہ درست نہیں۔ شہد کی کارکن مکھیاں مادہ ہوتی ہیں اور وہ شہد کی بادشاہ مکھی کو نہیں بلکہ ملکہ مکھی کو اپنی کارگزاری پیش کرتی ہیں۔ اب اس بارے میں کیا کہا جائے کہ گذشتہ 300سال کے دوران ہونے والی جدید تحقیق کی بدولت ہی ہم یہ سب کچھ دریافت کر پائے ہیں۔

مکڑی کا جالا، ناپائیدار ترین گھر
مَثَلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡلِيَآءَ كَمَثَلِ ٱلۡعَنڪَبُوتِ ٱتَّخَذَتۡ بَيۡتًا‌ ۖ وَإِنَّ أَوۡهَنَ ٱلۡبُيُوتِ لَبَيۡتُ ٱلۡعَنڪَبُوتِ‌ ۖ لَوۡ ڪَانُواْ يَعۡلَمُونَ

[16]

ترجمہ:جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑکر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں انکی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا گھر بنا تی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش یہ لوگ علم رکھتے۔
مکڑی کے جالے نازک اور کمزور کے طور پر بیان کرنے کے علاوہ، قرآن پاک نے مکڑی کے گھر یلو تعلقات کے بھی نازک اور ناپائیدار ہونے پر زور دیا ہے۔ یہ صحیح بھی ہے کیونکہ بیشتر اوقات مکڑی اپنے ملاپ کار (Mate) یعنی نر کو مار ڈالتی ہے۔
یہی مثال ایسی لوگوں کی کمزوریوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بھی دی گئی ہے جو دنیا اور اخرت میں تحفظ و کامیابی حاصل کرنے کے لیے اللہ کو چھوڑ کردوسروں سے اس کی امید کرتے ہیں۔

چیو نٹیوں کا طرز حیات اور باہمی روابط
وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْ دُ ہ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِ نْسِ وَ اطَّیْرِ فَھُمْ یُوْ زَ عُوْنَ ہ
حَتّٰی اِ ذَآ اَ تَوْا عَلٰی وَ ادِ النّمْلِ قَا لَتْ نَمْلَةُیّٰاَ یُّھَا النَّمْلُ ادْ خُلُوْا مَسٰکِنَکُمْ لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْ دُ ہ وَ ھُمْ لَا یَشْعُرُوْ نَ ہ[17]
ترجمہ:سلمان کے لیے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے تھے اور وہ پورے ضبط میں رکھے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔ اے چیوٹیو ! اپنے بلوں میں گھس جائو کہیں ایسا نہ ہو کہ سیلمان اور اس کے لشکر تمھیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔
ہو سکتا ہے کہ ماضی میں بعض لوگوں نے قرآن پاک میں چیونٹیوں کا مذکورہ بالا مکالمہ دیکھ کر اس پر نکتہ چینی کی ہو اور کہا ہو کہ چیونٹیاں تو صرف کہانیوں کی کتابوں ہی میں باتیں کرتی ہیں۔ البتہ، حالیہ برسوں کے دوران ہمیں چیونٹیوں کے طرز حیات، باہمی روابط اور پیچیدہ معلومات کے تبادلے کے حوالے سے بہت کچھ علم ہو چکا ہیں۔ یہ معلومات دور جدید سے پہلے کے انسانوں کو حاصل نہ تھیں۔ تحقیق سے انکشاف ہواہے کہ وہ جانور یا حشرات (کیڑے مکوڑے) جن کا طرز حیات انسانی معاشرت سے غیر معمولی مما ثلت رکھتا ہے، وہ چیونٹیاں ہی ہیں۔ اس کی تصدیق چیونٹیوں کے بارے میں درج ذیل حالیہ دریافتوں سے بھی ہوتی ہے۔
١) چیونٹیاں بھی اپنے مردوں کو انسانوں کی طرح دفناتی ہیں۔
٢) ان میں کار کنوں کی تقسیم کا پیچیدہ نظام موجود ہے جس میں نگران،نگران کارکن اور مزدور وغیرہ شامل ہیں۔
٣) کھبی کھبار وہ آپس میں ملتی ہیں اور گفتگوبھی کرتی ہیں۔
٤) ان میں باہمی تبادلہ (communication) کا ترقی یافتہ نظام موجود ہے۔
٥) ان کی کالونیوں (colonies) میں باقاعدہ مارکیٹیس (markets) ہوتی ہیں جہاں وہ اشیاء کا تبادلہ کرتی ہیں۔
٦) سردیوں میں لمبے عرصے تک زیر زمین رہنے کے لیے وہ اناج کے دانوں کا ذخیرہ بھی کرتی ہیں۔ اور اگر کوئی دانہ پھوٹنے لگے، یعنی اس سے پودا بننے لگے تو وہ فوراً اس کی جڑیں کاٹ دیتی ہیں۔ جیسے انہیں یہ پتا ہو کہ اگر وہ اس دانے کو یونہی چھوڑ دیں گی تو وہ بڑھنا اور پکنا شروع کر دے گا۔ اگر انکا محفوظ کیا ہوا اناج کسی بھی وجہ سے مثلاً بارش سے گیلاہو جائے تو وہ اسے اپنے بل سے باہر لے جاتی ہیں اور دھوپ میں سکھاتی ہیں۔ جب اناج سوکھ جاتا ہے تبھی وہ اسے بل میں واپس لے کر جاتی ہیں۔ یعنی یوں لگتا ہے، جیسے انہی یہ علم ہو کہ نمی کی وجہ سے اناج کے دانے سے جڑیں نکل پڑیں گی جو دانے کو اس قابل نہیں چھوڑیں گی کہ اسے کھایا جا سکے۔

طب (Medicine)
شہد : نوع انسانی کے لیے شفا
شہد کی مکھی کئی طرح کے پھلوں اور پھولوں کا رس چوستی ہے اور اسے اپنے ہی جسم کے اندر شہد میں تبدیل کرتی ہے۔ اس شہد کو وہ اپنے چھتے میں بنے خانوں (Cells)میں جمع کرتی ہے۔ آج سے صرف چند صدیوں قبل ہی انسان کو یہ معلوم ہوا ہے کہ شہد اصل میں شہد کی مکھی کے پیٹ (Belly)سے نکلتا ہے، مگر یہ حقیقت قرآن پاک نے ١٤٠٠ سال پہلے درج ذیل آیات مبارکہ میں بیان کر دی تھی۔
یَخْرُجُ مِنْ بَطُوْنِھَا شَرَا بُ مُّخْتَلِفُ اَ لْوَ انُہ فِیْہِ شِفَاآ ئُ لِّلنَّا سِ ط [18]
ترجمہ : اس مکھی کے (پیٹ کے ) اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے ۔
علاوہ ازیں ہم نے حال ہی میں دریافت کیا ہے کہ شہد میں زخم کوٹھیک کرنے کی شفا بخش خصوصیات پائی جاتی ہیں اور یہ نرم(مرہم جیسی) جراثیم کش دوا (Mild antiseptic) کا کام بھی کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں رو سیوں نے بھی اپنے زخمی فوجیوں کے زخم ڈھانپنے کے لیے شہد کا استعمال کیا تھا۔ شہدکی یہ خاصیت ہے کہ یہ نمی کو برقرار رکھتا ہے اور بافتوں (tissue) بر زخمو ں کے بہت ہی کم نشان باقی رہنے دیتا ہے شہد کی کثافت (Density) کے باعث کوئی پپوندی (fungus) یا جراثیم، زخم میں پروان نہیں چڑھ سکتے۔
سسٹر کیرول (Carole) نامی ایک مسیحی راہبہ (Nun) نے برطانوی شفا خانوں میں سینے اور الزائیمر:Alzheimer) ایک بیماری کانام )کے بیماریوں میں مبتلابائیس ٢٢ ناقابل علاج مریضوں کا علاج پرپولس (Propolis) نامی مادے سے کیا۔ شہد کی مکھیاں یہ مادہ پیدا کرتی ہیں اور اسے اپنے چھتّے کے خانوں کو جرا ثیموں کوروکنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
اگر کوئی شخص کسی پودے سے ہونے والی الرجی میں مبتلا ہو جائے تو اسی پودے سے حاصل شدہ شہد اس شخص کو دیا جا سکتا ہے تا کہ وہ الرجی کے خلاف مزاحمت پیدا کرلے۔ شہد و ٹامن۔ کے (vitamen K) اور فر کٹوز (: Fructoseایک طرح کی شکّر) سے بھی بھر پور ہوتا ہے۔
قرآن میں شہد اس کی تشکیل اور خصوصیا ت کے بارے میں جو علم دیا گیا ہے اسے انسان نے نزول قرآن کے صدیوں بعد اپنے تجربے اور مشاہدے سے دریافت کیا ہے۔

نشانات انگشت ( Finger Prints)
اَ یَحْسَبُ الْاِ نْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَا مَہ ط ہ بَلٰی قٰدِ رِ یْنَ عَلٰی اَنْ نُّسَوِّ یْ بَنَا نَہ ہ[19]
ترجمہ:۔ کیا انسا یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے؟ کیوں نہیں؟ ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور (finger tips) تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں۔
کفاراور ملحدین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص مرجانے کے بعد مٹی میں مل جاتا ہے اور اس کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہو جاتی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ قیامت کے روز اُسکے جسم کا ایک ایک ذرہ دوبارہ یکجا ہو کرپہلے والی( زندہ) حالت میں واپس آجائے ۔۔۔ اور اگر ایسا ہوبھی گیا تو روزِ محشراس شخص کی ٹھیک ٹھیک شناخت کیونکر ہو گی؟ اللہ تعالیٰ رب ذوالجلال نے مذکورہ بالاآیات مبارکہ میں اسی اعتراض کابہت واضح جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ ( اللہ تعالیٰ) صرف اسی پر قدرت نہیں رکھتا کہ ریزہ ہڈیوں کو واپس یکجا کر دے۔ بلکہ اس پر بھی قادر ہے کہ ہماری انگلیوں کی پوروں (finger tips) تک دوبارہ سے پہلے والی حالت میں ٹھیک ٹھیک طور لے آئے۔
سوال یہ ہے کہ جب قرآن پاک انسانوں کی انفرادی شناخت کی بات کر رہاہے تو انگلیوں کی پوروں کا خصوصیت سے تذکرہ کیوں کر رہاہے؟ سرفرانسس گولڈ (Frances Gold) کی تحقیق کے بعد١٨٨٠ء میں نشانات انگشت( finger prints) کو شناخت کے سائنسی طریقے کا درجہ حاصل ہوا۔ آج ہم یہ جانتے ہیں۔ کہ اس دنیا میں کوئی سے بھی دو افراد کی انگلیوں کے نشانات کا نمونہ بالکل ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ حتٰی کہ ہم شکل جڑواں افراد کابھی نہیں یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں مجرموں کی شنا خت کے لیے ان کے نشا نا ت ِا نگشت ہی استعمال کیے جا تے ہیں۔ کیا کویٔی بتاسکتاہے کہ آج سے ١٤٠٠سال پہلے کس کو نشانات انگشت کی انفرادیت کے بارے میں معلوم تھا؟ یقینا یہ علم رکھنے والی ذات اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کی نہیں ہو سکتی تھی۔

جلد میں درد کے اخذے ( Pain Receptors)
پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ محسوسات اور درد وغیرہ کا انحصار صرف اور صرف دماغ پر ہوتا ہے البتہ حالیہ دریافتوں سے یہ معلوم ہوا ہے کہ جلد میں درد کو محسوس کرنے والے آخذے (Receptors) ہوتے ہیں۔ اگریہ خلیات نہ ہو تو انسان درد کو محسوس کرنے کے قابل نہیں رہتا۔
جب کوئی ڈاکٹر کسی مریض میں جلنے کی باعث پڑنے والے زخموں کا معائنہ کرتا ہے تووہ جلنے کا درجہ ( شدت) معلوم کرنے کے لیے ( جلے ہوئے مقام پر) سوئی چبھوکردیکھتاہے۔ اگر چُھبنے سے متاثرہ شخص کو درد محسوس ہوتاہے تو ڈاکٹر کو اس پر خوشی ہوتی ہے ۔۔۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ جھلنے کا زخم صرف باہر کی حد تک ہے اوردردمحسوس کرنے والے خلیات (درد کے آخذے) محفوظ ہیں۔ اس کے برخلاف اگر متاثرہ شخص کو سوئی چُھبنے پر درد محسوس نہ ہوتو یہ تشویشناک امرہوتا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جلنے سے بننے والے زخم کی گہرائی زیادہ ہے اور درد کے آخذے (receptor) بھی مردہ ہوچکے ہیں۔
درج ذیل آیت مبارکہ میں قرآن پاک نے بہت واضح الفاظ میں درد کے آخذوں کی موجودگی کے بارے میں بیان فرمایاہے:
اِنَّ الَّزِیْنَ کَفَرُوْ ا بِاٰ یٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْھِمْ نَا رًا ط کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّ لْنٰھُمْ جُلُوْ دًا غَیْرَھَا لِیَذُ وْ قُوا الْعَذَابَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَا نَ عَزِیزً ا حَکِیْمًا ہ[20]
ترجمہ۔:جن لوگوں نے ہماری آیات ما ننے سے انکار کر دیا ہے انہیں بالیقین ہم آگ میں جھونکیں گے اور جب اس کے بدن کی کھال گَل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کر دیں گے تاکہ وہ خوب عذاب کا مزہ چکھیں۔ اللہ بڑی قدرت رکھتاہے اوراپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت کو خوب جانتاہے۔
تھائی لینڈ میں چانگ مائی یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف اناٹونی کے سربراہ پروفیسر تیگاتات تیجاشان (Tagatat Tejasen) نے درد کے آخذوں پرتحقیق میں بہت وقت صرف کیا۔ پہلے تو انہیں یقین ہی نہیں آیا کہ قرآن پاک نے ١٤٠٠ سال پہلے اس سائنسی حقیقت کا انکشاف کر دیا ہوگا۔ تاہم بعد ازاں جب انہوں نے مذکورہ آیت قرآنی کے ترجمے کی باقاعدہ تصدیق کرلی تو وہ قرآن پاک کی سائنسی درستی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ سعودی عرب کے شہرریاض میں منعقدہ آٹھویں سعودی طبی کانفرنس کے موقع پر جس کا موضوع 'قرآن پاک اور سنت میں سائنسی نشانیاں' تھا انہوں نے بھرے مجمعے میں فخرکے ساتھ کہا۔
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ الرَّسُوْلُ اللّٰہ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمدۖ اللہَّ کے رسول ہے۔

جنینیات (Embryology)
ریڑھ کی ہڈی اور پسلیو ں کے درمیان سے خارج ہونے والا قطرہ
فَلْیَنْظُرِ الْاِ نْسَا نُ مِمَّ خُلِقَ ط ہ خُلِقَ مِنْ مَّآ ئٍٍ دَ افِقٍٍِِ ہ یَّخْرُجُ مِنْ م بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَ آ ئِبِ ط ہ[21]
ترجمہ:۔پھر انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ ایک اُچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتاہے۔
جُنینی مراحل (embryonic stages) میں مردانہ وزنانہ تولیدی اعضاء یعنی فوطے (testicle) اور بیضہ دان(Ovary) گردوں کے پاس سے ریڑھ کی ہڈی اور گیارہوں اور بارہویں پسلیوں کے درمیان سے نموپذیر ہونا شروع کرتے ہیں۔ بعد ازاں وہ کچھ نیچھے اُترآتے ہیں، زنا تولیدی غدود (gonads) یعنی بیضہ دانیاں پیڑو( pelvis) میں رُک جاتی ہے جبکہ مردانہ اعضائے تولید(inguinal canal) کے راستے خصیہ دانی (scrotum) تک جاپہنچتے ہیں۔ حتٰی کہ بلوغت میں بھی جبکہ تولیدی غدود کے نیچے جانے کا عمل رک چکا ہوتا ہے ان غدود میں دھڑوالی بڑی رگ (Abdominal aorta) کے ذریعے خون اور اعصاب کی رسانی کا سلسلہ جاری رہتاہے۔ دھیان رہے کہ دھڑ والی بڑی رگ اس علاقے میں ہوتی ہے جو ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان ہوتا ہے۔ لمفی نکاس (Lymphetic drainage) اور خون کا وریدی بہائو بھی اس سمت ہوتاہے۔

نطفہ: مائع کی معمولی سی مقدار
قرآن کریم میں کم ازکم گیارہ مرتبہ کہا گیاہے کہ انسان کو نطفہ سے تخلیق کیا گیا ہے جس کا مطلب مائع کی نہایت معمولی مقدار یا پیالہ خالی ہوجانے کے بعداس میں لگارہ جانے والا مائع ہے۔ یہ بات قرآن عالی شان کی کئی آیات مبارکہ میں وارد ہوئی ہے جن میں سورة٢٢آیت٥) سورة ٢٣آیت١٣کے علاوہ سورة ١٦آیت ٤ ،سورة ١٨آیت ٣٧، سورة٣٥آیت ١١، سورة ٣٦آیت ٧٧، سورة ٤٠آیات ٦٧، سورة٣ ٥آیت٤٦، سورة ٧٦ آیت ٢، سورة ٨٠ آیت ١٩شامل ہیں۔
سائنس نے حال ہی میں یہ دریافت کیا ہے کہ بیضے ( Ovum)کوبار آور کرنے کے لیے او سطاً تیس لاکھ خلیات نطفہ( sperms) میں سے صرف ایک کی ضرورت ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ خارج ہونے والے نطفے کی مقدار تیس لاکھواں حصّہ یا0.00003 فیصد مقدار ہی بار آوری ( حمل ٹھہرانے ) کے لیے کافی ہوتی ہے

سُلٰلَة مائع کا جوہر
ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآ ئٍ مَّھِیْنٍ ہ [22]
ترجمہ:پھر اس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح ہے ۔
عربی لفظ' سُللة' سے مراد کسی مائع کا بہترین حصہ خلاصہ یا جوہر ہے۔ ا ب ہم جان چکے ہیں کہ زنانہ بیضے کی بار آوری (fertilization) کے لیے مرد سے خارج ہونے والے لاکھو ں کروڑوں خلیات نطفہ میں سے صرف ایک کی خلیہ نطفہ کو قرآن پاک نے سللة کہاہے۔ اب ہمیں یہ بھی پتاچل چکا ہے کہ عورت میں پیدا شدہ ہزاروں بیضوں (ovam) میں سے صرف ایک ہی بار آور ہوتاہے۔ ہزاروں میں سے اسی ایک بیضے کے لیے( جو بار آور ہوتا ہے ) قرآن پاک)نے سللة کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس لفظ کا ایک اور مفہوم کسی مائع سے ( کسی چیزکا) بڑی احتیاط سے اخراج بھی ہے۔ اس مائع سے مراد زنانہ اور مردانہ دونوں طرح کے تولیدی مائعات بھی ہیں جن میں صنفی تخم (gametes) موجود ہوتے ہیں۔ بارآوری کے مرحلے کے دورا ن نطفہ خلیہ اور بیضہ دونوں ہی اپنے اپنے ماحول سے بہ احتیاط جدا ہوتے ہیں۔

نُطْفَةٍ اَمْشَاج۔۔۔ باہم ملے ہوئے مائعات
اِ نَّا خَلَقْنَا الْاِ نْسَا نَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَا ج
ترجمہ:۔ہم نے انسان کو ایک مخلوط(آپس میں ملے ہویے) نطفے سے پیداکیا۔[23]
عربی لفظ نُطْفَہٍ اَمْشاج کامطلب، ملے ہوئے مایٔعات ہے، بعض مفسرین کے نزدیک ملے ہوئے مائعات سے مراد عورت یا مرد کے ( تولیدی) عامل (agent) یامائعات ہیں۔ مردانہ اور زنانہ صنفی تخم (Gametes)کے باہم مل جانے کے بعد بننے والا جفتہ (zygote) بھی ابتدا میں نطفہ ہی رہتا ہے۔ باہم ملے ہوئے ( ہم آمیز) مائعات سے ایک اور مراد وہ مائع بھی ہو سکتاہے جس میں خلیات نطفہ تیر رہے ہوتے ہیں۔ یہ مائع کئی طرح کی جسمانی رطوبتوں (fluids)سے مل کربنتاہے جو کئی جسمانی غدود (glands)سے خارج ہوتی ہیں۔
لہذا نطفةٍ امشاج یعنی آپس میں ملے ہوئے مائعات کے ذریعے مردانہ وزنانہ صنفی مواد (تولیدی مائع یا خلیات) اور اس کے اردگرد مائعات کے کچھ حصّے کی جانب اشارہ کیاجا رہا ہے۔

جنس کاتعین
پختہ جنین( foetus) کی جنس کا تعین ( یعنی اس سے لڑکاپیداہوگا یالڑکی) نُطفہ کے خلیے ( sperm) سے ہوتاہے نہ کہ بیضے (ovum) سے۔ مطلب یہ کہ رحم مادر میں ٹھہرے والے حمل سے لڑکاپیداہوگایالڑکی اسکاانحصارکروموسوم کے ٢٣ ویں جوڑے میں بالترتیب xx / xy کروموسومز کی موجودگی پرہوتاہے۔ ابتدائی طورپر جنس کا تعین بارآوری کے موقع پر ہی ہو جاتاہے اور اس کا انحصار خلوی نطفے (sperm) کے صنفی کروموسومchromosomes) sex) پرہوتاہے۔ جو بیضے کو بار آورکرتاہے۔ اگربیضے کو بارآورکرنے والے سپرم (sperm) میںxصنفی کروموسوم ہے توٹھہرے والے حمل سے لڑکی پیداہوگی۔ اس کے برعکس، اگراسپرم (sperm) میں صنفی کروموسوم yہے توحمل کے نتیجے میں لڑکا پیداہوگا۔
وَ اَنَّہ خَلَقَ الذَّ وْ جَیْنِ الذَّ کَرَ وَ الْاُ نْثٰی ہ مِنْ نُّطْفَةٍ اِ زَ اتُمْنٰی ہ [24]
ترجمہ:۔ اوریہ کہ اسی نے نر اور مادہ کا جوڑا پیداکیا، ایک بوند سے جب وہ ٹپکائی جاتی ہے۔
یہاں عربی لفظ نطفہ کا مطلب تومائع کی نہایت قلیل مقدار ہے جبکہ تمُنٰی کامطلب شدت سے ہونے والا اخراج یا پودے کی طرح بوئی گئی کوئی چیز ہے لہذا نطفہ بطور خاص اسپرم (sperm) ہی کی طرف اشارہ کر رہاہے کیونکہ یہ شدت سے خارج ہوتاہے ۔
قرآن پاک میں ارشاد ہوتاہے۔
اَ لَمْ یَکُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍٍّ یُّمْنٰی ہ ثُمَّ کَا نَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰ ی ہ فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّ وْ جَیْنِ الذَّ کَرَ وَا لْاُ نْثٰی ط ہ [25]
ترجمہ:۔ کیاوہ ایک حقیرپانی کانطفہ نہ تھا جو(رحم مادرمیں) ٹپکایا جاتاہے؟ پھروہ ایک لوتھڑابنا پھراللہ تعالی نے اس کا جسم بنایااوراسکے اعضاء درست کیے، پھراس سے مرد اور عورت کی دوقسمیں بنایٔیں۔
ملأ خطہ فرمایے کہ یہاں ایک بارپھر یہ بتایا گیاہے کہ نہایت قلیل مقدار ( قطرے) پر مشتمل مادہ تولید( جس کے لیے عربی عبادت نُطْفَةًمّن مَّنِیٍّ واردہوئی ہے ) جو مرد کی طرف سے آتاہے۔ اوریہ رحم مادر میں بچے کی جنس کے تعین کا ذمہ دار ہے۔
برصغیرمیں یہ افسوس ناک رواج ہے کہ عام طور پر ساسوں کی پوتیوں سے زیادہ پوتوں کاارمان ہوتاہے۔ اور اگربہو کے ہاں بیٹوں کی بجائے بیٹیاں پیداہو رہی ہوں تووہ انہیں اولادِ نرینہ پیدانہ کرسکنے پر طعنہ دیتی ہیں۔ اگرانہیں صرف یہی پتہ چل جاتاکہ اولادکی جنس کے تعین میں عورت کے بیضے کا کوئی کردار نہیں اور اس کی تمام ترذمہ داری مردانہ نطفے (sperm) پر عائد ہوتی ہے اور اگر پھربھی وہ لعن طعن پر آمادہ ہو تو اُنہیں چاہیے کہ وہ (اولادِنرینہ کے نہ ہونے پر) اپنی بہوؤں کی بجائے اپنے بیٹوں کو طعنہ دیں۔ قرآن پاک اور جدید سائنس دونوں اس بات پر متفق ہے کہ بچے کی جنس کا تعین میں مردانہ تولیدی مواد ہی ذمہ دا رہے، عورت کا اس میں کوئی قصور نہیں۔

تین تاریک پردوں کی حفاظت میں رکھاگیا جنین (foetus)
یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُوْ نِ اُ مَّھٰتِکُمْ خَلْقًا مِنْ م بَعْدِ خَلْقٍٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ط [26]
ترجمہ:۔ اسی نے تم کو ایک جان سے پیداکیا پھر وہی ہے جس نے اس جان سے اس کا جوڑا بنایااور اسی نے تمھارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نروما دہ پیدا کیے۔ اور وہ تمھاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین باریک پردوں کے اندرتمھیں ایک کے بعد ایک شکل دیتاچلاجاتاہے۔ یہی اللہ ( جس کے یہ کام ہیں) تمھارارب ہے۔ بادشاہ ہی اسی کی ہے۔ کوئی معبود اس کے سوانہیں ہے۔ پھرتم کدھرسے جا رہے ہو۔
پروفیسر ڈاکٹر کیتھ مور(Keith L. Moore) کے مطابق قرآن پاک میں تاریکی کے جن تین پردوں کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ درج ذیل ہیں:
١۔ شکم مادر کی اگلی دیوار
٢۔ رحمِ مادر کی دیوار
٣۔ غلافِ جنین اور اس کے گرد لپٹی ہوئی جھلی (amnio-chorionic membrane)

جنینی مراحل (Embryological stages)
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِ نْسَا نَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍٍ ہ ثُمَّجَعَلْنٰہُ نُطْفَةً فِیْ قَرَ ارٍٍ مَّکِیْنٍٍ ہ ثُمَّ خَلَقْنَا ا لں ُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَْْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَکَسَوْ نَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ثُمَّ اَنْشَاْ نٰہُ خَلْقًا اٰ خَرَ ط فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ ہ ط[27]
ترجمہ:۔ اوریقینا ہم نے انسا ن کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے نطفہ بناکر ایک محفوظ جگہ (رحم مادر)میں رکھا۔ پھر ہم نے نطفہ کو خون کا ایک لوتھڑا بنایا۔ پھر لوکو گوشت کی بو ٹی بنا یا پھرہم نے لوتھڑے کو ہڈیاں بنادیا۔ پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنایا پھر ہم نے اسے ایک نیٔی صورت دے دی۔ برکتوں والا ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین پیداکرنے والا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسان مائع کی حقیر مقدار سے تخلیق کیا گیا جسے امن کی جگہ پر رکھاجاتاہے۔ مضبوطی سے جمایا ہوا( خوب مستحکم یا ٹھہرایا گیا) جس کے لیے عربی لفظ قرار مکین استعمال ہوا ہے۔ رحم مادر پچھلی جانب سے ریڑھ کے مہروں کے ستوں سے اچھی طرح محفوظ کیا گیا ہوتاہے جسے کمر کے پٹھے مضبوطی سے سہارا دیتے ہیں۔ جنین ایمنیا ٹک فلویڈ(amniotic fluid) سے بھرے ایمنیاٹک سیک( amniotic sac) سے مزید محفوظ بنایا گیاہوتاہے۔ چنانچہ جنین( foetus) کی ایک بہترین محفوظ دینے کی جگہ ہوتی ہے۔ سیال(fluid) کی اس قلیل مقدار کو 'علقہ' میں تبدیل کیا جاتاہے یعنی ایسی چیز جوچپک جاتی ہے۔ اس سے جونک(Leech) جیسی چیز بھی مراد ہے۔ یہ دونوں تعریفیں سائنسی طورپرقابل قبول ہیں کیونکہ بالکل ابتدائی مراحل میں جنین ( رحم مادر کی) دیوار سے چپک جاتاہے اور شکل کے لحاظ سے جونک سے بھی مشابہ ہوتاہے۔ یہ جونک ہی کی طرح رویہ رکھتا ہے ( خون چوسنے والا) اور اپنی خونی رسد ناف کے ذریعے ماں سے حاصل کرتاہے۔
'علقہ' کا تیسرا مطلب ہے جماہواخون۔ اس علقہ کے مرحلے کے دوران جو حمل کے تیسرے اور چوتھے ہفتے پر محیط ہوتاہے خون بندنالیوں میں جم جاتا ہے چنانچہ جنین جونک کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ آسانی سے دسیتاب ہونے والے اس قرآنی علم کا سائنسی دریافتوں کے لیے انسانی محنت کے ساتھ موازنہ کرلیجئے۔
١٦٧٧ء میں ہیم اور لیون ہک (hamm& leewenhoek) وہ پہلے سائنس دان تھے جنھوں نے ایک خوردبین کے ذریعے اسانی تولیدی خلیوں کا مشاہدہ کیا۔ انکا خیال تھا کہ سپرم کے اندر انسان کا ایک مختصر نمونہ ہوتاہے۔ جو ایک نوزائیدہ بچے کی شکل پانے کے لیے رحم کے اندر نشو و نما پاتا ہے۔ یہ پر فوریشن تھیوری (perforation theory) کے نام سے جانی جاتی تھی۔ جب سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ بیضہ (ovum) یعنی مادہ تولیدی مادہ) سپرم (sperm) سے جسامت میں بڑا ہوتاہے توڈی گراف (De Graf)اور دوسرے سائیسندانوں نے سوچاکہ جنین(foetus) ایک چھوٹے نمونے کی شکل میں بیضہ کے اندر موجود ہوتاہے۔ بعد ازاں اٹھارویں صدی میں ماپر چو یئس (Maupertuis) نے مادرپدر دو طرفہ وراثت کا نظریہ پیش کیا۔
'علقہ' ' مُضغہ' میں تبدیل ہوتاہے۔ جس کا مطلب ہے ایسی چیز جوچبائی گئی ہو( جس پر دانتوں کے نشان ہو) اورایسی چیز بھی جو نرم چپکے والی ہو اور گم(gum)کی طرح منہ میں رکھی جا سکے۔ یہ دونوں وضاحتیں سائینسی طورپردرست ہے پروفیسر کیتھ مور( keith moore) نے پلاسٹرٔسیل(plaster seal) کا ایک ٹکڑا لیا اور اسے جنین کے ابتدائی مرحلے کی جسامت اور شکل دی اور اسے مضغہ بنانے کے لیے دانتوں کے درمیان چبایا۔ انہوں نے اس کا تقابل جنین کے ابتدائی مرحلے کی تصاویر سے کیا۔ دانتوں کے نشان سومائٹس(somites) سے مشابہ تھے جو ریڑھ کی ہڈی کی ابتدائی بناوٹ ہے۔ یہ مضغہ ہڈیوں ( عظام) میں تبدیل ہوتاہے ہڈیاں سالم گوشت یا پٹھوں ( لحم) سے لپٹی ہوتی ہیں۔ پھر اللہ تعالی اس کو ایک دوسری تخلیق میں ڈال دیتاہے۔ پروفیسر مارشل جانسن(Marshal Johnson) جو امریکا کے سرکردہ سائنس دانوں میں سے ایک ہیں اور اناٹومی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اور تھا مس جیفر سن یونیورسٹی فایلاڈلفیا امریکا کے ڈینیل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان سے علم الجنین (embroyology) سے متعلق قرآنی آیات پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا۔ ابتدا میں انہوں نے کہا کہ جنین کے مراحل سے تعلق رکھنے والی قرآنی آیات محض اتفاق نہیں ہو سکتی۔ ممکن ہے کہ محمد ۖکے پاس کوئی طاقت ورخوردبین ہو۔ یہ یاد دلانے پرکہ کہ قرآن چودہ سو سال پہلے نازل ہوا اور خوردبینیں پیغمبر محمدۖ کے زمانے سے کئی صدیاں بعدایجاد کی گئیں۔ پروفیسر جانسن ہنسے اور یہ تسیلم کیا کہ ایجاد ہونے والی اولین خوردبین بھی دس گنا سے زیادہ بڑی شبیہ(image) دکھانے کے قابل نہیں تھی اور ا سکی مدد سے واضح ( خردبینی) منظر بھی دیکھانہیں جاسکتا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے کہا: سردست مجھے اس تصوّرمیں کوئی تنازع د کھائی نہیں دیتا کہ جب محمدۖ نے قرآن پاک کی آیات پڑھیں تو اُس وقت یقینا کوئی آسمانی ( الہامی ) قوت بھی ساتھ میں کارفرماتھی ۔
ڈاکٹر کیتھ مور کا کہنا ہے کہ جنینی نشو و نما کے مراحل کی وہ درجہ بندی جو آج ساری دنیا میں رائج ہے آسانی سے سمجھ میں آنے والی نہیں ہے کیونکہ اس میں ہر مرحلے کو ایک عدد( نمبر) کے ذریعے شناخت کیا جاتاہے۔ مثلاً مرحلہ نمبر1، مرحلہ نمبر2،وغیرہ۔ دوسری جانب قرآن پاک نے جنینی مراحل کی جو تقسیم بیان فرمائی ہیں، اس کی بنیادجداگانہ اور آسانی سے شناخت کے قابل حالتوں یاساختوں پر ہیں۔ یہی وہ مراحل ہیں جن سے کوئی جنین مرحلہ وار انداز میں گزرتاہے۔ علاوہ ازیں یہ حالتیں ( ساختیں) بھی قبل ازولادت نشو و نما کے مختلف مراحل کی علمبردا رہیں اور ایسی سائنسی توضیحات( وضاحتیں) فراہم کرتی ہیں۔ جو نہایت عمدہ اور قابل فہم ہونے کے ساتھ ساتھ عملی اہمیت بھی رکھتی ہیں۔ رحم مادرمیں انسانی جنین کی نشو و نما کے مختلف مراحل درج ذیل آیات مبارکہ میں بھی بیان فرمایئے گئے ہیں:
اَ لَمْ یَکُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍٍّ یُّمْنٰی ہ ثُمَّ کَا نَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰ ی ہ فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّ وْ جَیْنِ الذَّ کَرَ وَا لْاُ نْثٰی ط ہ[28]
ترجمہ: کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو ( رحم مادر مین )ٹپکایا جاتاہے؟ پھر وہ ایک لوتھڑا بنا پھراللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا ء درست کیے۔ پھر اس سے مرد اور عورت کی دوقسمیں بنائیں۔
الَّذِ یْ خَلَقَکَ فَسَوّٰ کَ فَعَدَ لَکَ ہ فِیْ اَیِّ صُوْ رَ ةٍ مَّا شَآ ئَ رَ کَّبَکَ ط[29]
ترجمہ۔ جس نے تجھے پیدا کیا، پھرتجھے درست کیا، تجھے تناسب سے بنایا اور جس صورت میں چاہاتجھ کوجوڑ کرتیار کیا۔

نیم مکمل اورنیم نامکمل جنین(Embryo)
اگر' مضغہ' کے مرحلے پر جنینن کو درمیان سے کاٹاجائے اور اس کی اندرونی حصّوں کا مطالعہ کیاجائے توہمیں واضح طور پر نظر آئے گا کہ ( مضغہ کے اندرونی اعضاء میں سے ) بیشتر پوری طرح بن چکے ہیں جبکہ بقیہ اعضاء اپنی تکمیل کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ پروفیسر مارشل جونسن (Prof. Marshal Johnson)کاکہنا ہے کہ اگر ہم پورے جنین کو ایک مکمل بنے ہو یے وجود کے طورپر بیان کریں تو ہم صرف اسی حصّے کی بات کر رہے ہوں گے جو پہلے سے مکمل ہو چکا ہے اور اگر ہم اسے نامکمل وجود کہیں تو پھرجنین کے ان حصّوں کا حوالہ دے رہے ہو گے جو ابھی پوری طرح سے مکمل نہیں ہوئے بلکہ تکمیل کے مراحل طے کر رہے ہیں۔ اب سوال یہ اُٹھتاہے کہ اس موقعے پر جنین کو کیا کہنا چاہیے : مکمل وجود یا نامکمل وجود؟ جنینی نشو و نما کے اس مرحلے کی جو وضاحت قرآن پاک نے ہمیں دی ہے اس سے بہتر کوئی اور ممکن نہیں۔ قرآن پاک اس مرحلے کو نیم مکمل اورنیم نامکمل قراردیتاہے۔ درج ذیل آیات مبارکہ ملا خطہ فرمائیے۔
خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ تُرَ ابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمْ ط[30]
ترجمہ: ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیاہے۔ پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پھر گوشت کی بوٹی سے جو مکمل (بھی) ہوتی ہے اور نا مکمل بھی۔

سننے اور دیکھنے کی حِسّیات(Senses)
رحم مادرمیں نشو و نما پانے والے انسانی وجود میں سب سے پہلے جو حس جنم لیتی ہے وہ سننے کی حسِ (حسِ سامعہ) ہوتی ہے۔ ٢٤ ہفتوں بعد کاپختہ جنین ( foetus) آواز یں سننے کے قابل ہو جاتا ہے۔ پھر حمل کے ٢٧ ویں ہفتے تک دیکھنے کی حسِ( بصارت) بھی وجود میں آجاتی ہے اور پردہ چشم ( Retina) روشنی کے لیے حساس ہو جاتاہے ان مراحل کو قرآن پاک یوں بیان فرماتاہے؛۔
وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَ الْاَ بْصَارَ وَ الْاَفِْدَ ةَ ط [31]
ترجمہ:۔ اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں اور سمجھنے کی صلاحیت دی۔
اِ نَّا خَلَقْنَا الْاِ نْسَا نَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَا جٍٍٍ نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعًا م بَصِیْرً ا ہ[32]
ترجمہ۔: ہم نے انسان کوایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس فرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا۔
وَ ھُوَ الَّذِ یْ اَنْشَاَ لَکُمُ السَّمْعَ وَ الْاَ بْصَارَ وَا لْاَ فْدَئِ ةَ ط قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ ہ[33]
ترجمہ:۔ وہ اللہ ہی ہے جس ے تمہیں دیکنھے اورسننے کی قوتیں دیں اور سوچنے اور سمجھنے کی صلا حیت دی ہے۔(لیکن) تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔
ملا خطہ فرمائے کہ تمام آیات مبارکہ میں حِس سماعت کاتذکرہ حسِ بصارت سے پہلے آیا ہے، اس سے ثابت ہواکہ قرآن پاک کی فراہم کردہ توضیحات کے جدید جننیات میں ہونے والی دریافتوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔

آبیات (Hydrology)
آبی چکر: (water cycle)
آج ہم جس تصور کو آبی چکر (water cycle ) کے نام سے جانتے ہیں، اسے پہلے 1580ء میں برنارڈپیلیسی (Bernard Pallissy) نامی ایک شخص نے پیش کیا تھا۔ اس نے بتایا کہ سمندر وں سے کس طرح پانی بخارات میں تبدیل ہوتی ہے اور کس طرح وہ سرد ہو کر بادلوں کی شکل میں آتا ہے۔ پھر یہ بادل خشکی پر آگے کی طرف بڑھتے ہیں، بلند تر ہوتے ہیں ان میں پانی کی تکثیف (Condensation) ہوتی ہے اور بارش برستی ہے۔ یہ پانی جھیلوں، جھرنوں، ندیوں اور دریائوں کی شکل میں آتا ہے اور بہتا ہوا واپس سمندر میں چلا جاتا ہے اس طرح پانی کا یہ چکر جاری رہتا ہے ۔
ساتویں صدی قبل از مسیح میں تھیلس (Thallas) نامی ایک یونانی فلسفی کو یقین تھا کہ سطح سمندر پر باریک باریک آبی قطروں کی پھوار (اسپرے) پیدا ہوتی ہے۔ تیز ہوا اسی پھوار کو اٹھالیتی ہے اور خشکی کے دور افتادہ علاقوں پر لے جا کر برسا دیتی ہے۔ یہی بارش ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں، پرانے وقتوں میں لوگ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ زیر زمین میں پانی کا ماخذ کیا ہے۔ انکا خیال تھا کہ ہوا کی زبردست قوت کے زیراثر سمند ر کی پانی براعظموں (خشکی) میں اندرونی حصوں میں چلاآتا ہے۔ انہیں یہ یقین بھی تھا کہ یہ پانی ایک خفیہ راستے یا عظیم گہرائی سے آتا ہے، سمند ر سے ملا ہوا یہ تصوراتی راستہ افلاطون کے زمانے سے ٹار ٹار س کہلاتا تھا۔ حتی کے اٹھاویں صدی کے عظیم مفکّر ڈسکارٹس (Descartus) نے بھی انہی خیالات سے اتفاق کیا ہے۔
انسیویں صدی عیسوی تک اوسطو (Aristotle) کا نظریہ ہی زیادہ مقبو ل و معروف رہا۔ اس نظریے کے مطابق پہاڑوں کے سرد غاروں میں پانی کی تکثیف (Condensation) ہوتی ہے اور وہ زیر زمین جھیلیں بناتا ہے جو چشموں کا باعث بنتی ہیں ۔
آج ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ بارش کا پانی زمین پر موجود دراڈوں کے راستے رس رس کر زیر زمین پہنچتا ہے اور چشموں کی وجہ بنتا ہے۔ درج ذیل آیات قرآنی میں اس نکتے کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔
اَ لَمْ تَرَ اَ نَّ اللّٰہَ اَنْزَ لَ مِنَ السَّمَا ئِ مَآ ئً فَسَلَکَہ یَنَا بِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِ جُ بِہ زَرْ عًا مُّخْتَالِفًا اَلْوَ انُہ ہ[34]
ترجمہ:۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریائوں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعے سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں۔
وَّ یُنَزِّ لُ مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئَ فَیُحْی بِہِ الْاَ رْضَ بَعْدَ مَوْ تِھَا ط اِ نَّ فِیْ ذٰ لِکَ لَاٰ یٰتٍٍ لِّقَوْ مٍٍ یَّعْقِلُوْ نَ ہ[35]
ترجمہ:۔ وہ آسمان سے پانی برساتا ہے۔ پھر اس کے ذریعے سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
وَ اَنْزَ لْنَا مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً بِقَدَرٍٍ فَاَ سْکَنّٰہُ فِی الْاَرْ ضِ وَاِ نَّا عَلٰی ذَ ھَا بٍٍ بِہ لَقٰدِ رُوْ نَ ہ[36]
ترجمہ:۔ اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھہرا دیا، ہم اسے جس طرح چاہے غائب کر سکتے ہیں۔

تبخیر (Evaporation)
وَا لسَّمَآ ئِ ذَاتِ الرَّ جْعِ ہ [37]
ترجمہ:۔ قسم ہے آسمان کی جو (پانی )کو لوٹاتا ہے (اپنے چکر میں)

بادلوں کو بار آور کرتی ہوائیں
وَ اَرْ سَلْنَا الرِّ یٰحَ لَوَ ا قِحَ فَاَ نْذَ لْنَا مِنَ السَّمَآ ئِ مَا ئً فَاَ سْقَیْنٰکُمُوْ ہ [38]
ترجمہ:۔ اور ہم ہی ہوائوں کو بار آور بنا کر چلاتے ہیں، پھر آسمان سے پانی برساتے اور تم کو اس سے سیراب کرتے ہیں۔
یہاں عربی لفظ لواقح ّاستعمال کیا گیا ہے، جو لاقح کی جمع ہے اور لاقحہ سے نکلا ہے، جس کا مطلب بار آور کرنا یا پھر دیناہے، اسی سیاق و سباق میں، بار آور سے مراد یہ ہے کہ ہوا، بادلوں کو ایک دوسرے کے قریب دھکیلتی ہے جس کی وجہ سے ان پر تکثیف (Condensation) کا عمل بڑھتا ہے جس کا نتیجہ بجلی چمکنے اور بارش ہونے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ کچھ اسی طرح کی تو ضیحات، قرآن پاک کی دیگر آیات مبارک میں بھی موجود ہیں:
اَ لَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُذْ جِیْ سَحَبًا ثُمَّ یُئَو لِّفُ بَیْنَہ ثُمَّ یَجْعَلُہ رُکَا مًا فَتَرَ ی الْوَ دْقَ یَخْرُ جُ مِنْ خِلٰلِہ وَ یُنَزِّ لُ مِنَ السَّمَآ ئِ مِنْ جِبَا لٍٍ فِیْھَا مِنْ بَرَ دٍٍ فَیُصِیْبُ بِہ مَنْ یَّشَآ ئُ وَ یَصْرِ فُہ عَنْ مَّنْ یَّشَا ئُ ط یَکَا دُ سَنَا بَرْ قِہ یَذْ ھَبُ بِا لْاَ بْصَا رِ ہ [39]
ترجمہ:۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالٰی بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے اور پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف (Condense)ابربنا دیتا ہے۔ پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے اندر میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں جیسے (بادلوں)سے اولے برساتا ہے۔ پھر جسے چاہتا ہے انکا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے۔
اَ للّٰہُ الَّذِیْ یُرْ سِلُ الرِّ یٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَا بًا فَیَبْسُطُہ فِیْ السّمَآ ئِ کَیْفَ یَشَآ ئُ یَجْعَلُہ کِسَفًا فَتَرَ ی الْوَ دْ قَ یَخْرُ جُ مِنْ خِلٰلِہ فَاِ ذَآ اَصَا بَ بِہ مَنْ یَّشَآ ئُ مِنْ عِبَا دِ ہ اِ ذَ ا ھُمْ یَسْتَبْشِر [40]
ترجمہ:۔ اللہ ہی ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر وہ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلاتا ہے، جس طرح چاہتا ہے اور انہیں ٹکڑوں میں تقسیم کرتا ہے، پھر تودیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکتے چلے آتے ہیں۔ یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے برساتا ہے تو یکا یک وہ خوش و خرم ہو جاتے ہیں۔
آبیات (ہائیڈرولوجی Hydrology:) پر دستیا ب، جدید معلومات بھی قرآن پاک میں بیان کردہ متعلقہ وضاحتوں کی پوری طرح تائید کرتی ہیں۔ قرآن مجید کی متعدد د آیات مبارکہ میں آبی چکر کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔ مثلاً ملا خطہ ہو: سورة 7آیت 57، سورة 13آیت 17، سورة 25آیات 48تا 49، سورة 35آیت 9، سورة3آیت 34، سورة 45آیت 5، سورة 50آیات 9تا 11، سورة 56آیات 68تا70اور سورة 67آیت 30،

طبیعیات (Physics)
ایٹم بھی تقسیم کیے جا سکتے ہیں
قدیم زمانوں میں ایٹم ازم کا نظریہ کے عنوان سے ایک مشہور نظریے کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتاتھا۔ یہ نظریہ یونا ینوں نے بالخصوص ڈیموکر یٹس (Democritus) نامی ایک یونانی فلسفی نے پیش کیا تھا، جو آج سے 23صدیاں پہلے (2300سال پہلے) گزرا ہے۔ ڈیموکریٹس اور بعد ازاں اس کے ہم خیال لوگوں کا یہ تصور تھا کہ مادے کا مختصر ترین یونٹ (اکائی) ایٹم ہے۔ قدیم عرب بھی اسی تصور کو تسلیم کیا کرتے تھے۔ عربی لفظ ذرّہ کا عمومی مفہوم وہی ہو ا کرتا تھا جو یونانئیوں کے یہاں ایٹم کا تھا۔ حالیہ تاریخ میں سائنس نے دریافت کیا ہے کہ ایٹم کے قابل تقسیم ہونے کا تصور بھی بیسویں صدی کی سائنسی پیش رفت میں شامل ہے۔ چودہ صدیوں پہلے خود عربوں کے لیے بھی یہ تصور نہایت غیر معمولی ہوتا۔ ان کے نزدیک ذرّہ وہ حد تھی جس سے آگے مزید تقسیم ممکن ہی نہیں تھی۔ لیکن درج ذیل آیت میں قرآن پاک نے واضح طور پر اس حد کو ماننے سے انکار کیا ہے۔
وَ قَا لَ الَّذِ یْنَ کَفَرُوْ ا لَا تَا تِیْنَا السَّا عَةُ ط قُلْ بَلٰی وَ رَبِّیْ لَتَاْ تِیَنَّکُمْ عٰلِمِ الْغَیْبِ لَا یَعْزُ بُ عَنْہُ مِثْقَا لُ ذَ رَّ ةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْ ضِ وَلَآ اَ صْغَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَلآ اَ کْبَرُ اِ لَّا فِیْ کِتٰبٍٍ مُّبِیْنٍٍ ہ[41]
ترجمہ:۔منکرین کہتے ہیں کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آ رہی ہو۔ کہو قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی،وہ تم پر آ کر رہی گی۔ اس سے ذرّہ برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھپی ہوئی ہے نہ زمین میں۔ نہ ذرّ ے سے بڑی اور نہ اس سے چھوٹی۔ یہ سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے۔
اسی طرح کا پیغام قرآن پاک کی سورة 10آیت 61میں بھی دیا گیا ہے۔
یہ آیت مبارکہ ہمیں اللہ تبارک و تعالٰی کے عالم الغیب ہونے یعنی ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز سے با خبر ہونے کے بارے میں بتاتی ہے۔ پھر یہ مزید آگے بڑھتی ہے اور کہتی ہے کہ اللہ تعالٰی پر ہر چیز سے با خبر ہے، چاہے وہ ایٹم سے چھوٹی یا بڑی ہی کیوں نہ ہو۔ تو ثابت ہوا کہ یہ آیت مبارکہ واضح طور پر بتاتی ہے کہ ایٹم سے مختصر اشیاء بھی وجود رکھتی ہے۔۔۔۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو حال ہی میں جدید سائنس نے دریافت کی ہے۔

بحریات (Oceanology)
میٹھے اور نمکین پانیوں کے درمیان آڑ
مَرَجَ الْبَحْرَ یْنِ یَلْتَقِیٰنِ ہ بَیْنَھُمَا بَرْ زَ خُ لَّا یَبْغِیٰنِ ہ[42]
ترجمہ:۔ دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان آیات مبارکہ کے عربی متن میں لفظ برزخ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب رکائوٹ یا آڑ (partition ) کے ہے۔ تا ہم اسی تسلسل کا ایک اور عربی لفظ مرج بھی وارد ہوا ہے۔ جس کا مطلب وہ دونوں ایک دوسرے سے ملتے اور آپس میں ہم آمیز ہوتے ہیں بنتاہے۔
ابتدائی ادوار کے مفسرین قرآن کے لیے یہ وضاحت کرنا بہت مشکل تھا کہ پانی کے دو مختلف اجسام سے متعلق دو متضاد مفہوموں سے کیا مراد ہے۔ مطلب یہ کہ دو طرح کے پانی ہیں جو آپس میں ملتے بھی ہیں اورا نکے درمیان آڑ(رُکاوٹ ) بھی ہے۔ جدید سائنس نے دریافت کیا ہے کہ جہاں جہاں دومختلف بحیرے آپس میں ملتے ہیں وہاں وہاں ان کے درمیان آڑ بھی ہوتی ہے۔ دو بحیروں کو تقسیم کرنے والی رکائوٹ یہ ہے کہ ان میں ایک بحیرہ کا درجہ حرارت، شو ریدگی (Salinity) اور کثافت (Density) دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔[43] آج ماہرین بحریات مذکورہ آیات مبارکہ کی بہتر وضاحت کرسکتے ہیں۔ دو بحیروں کے درمیان پانی ہی کی ایک نازک رکاوٹ (طبعی قوتوں کی وجہ سے ) قائم ہوتی ہے۔ جس سے گزر کر ایک بحیرے کا پانی دوسرے بحیرے میں داخل ہوتا ہے تو وہ اپنی امتیازی خصوصیات کھو دیتا ہے اور دوسرے کے پانی کے ساتھ ہم جنس آمیزہ بنالیتا ہے، گویا ایک طرح سے یہ رکاوٹ کسی عبوری ہم آمیزی والے علاقے کا کام کرتی ہے، جو دونوں بحیروں کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ یہ مظہر درج ذیل آیت قرآنی میں بھی بیان کیا گیا ہے۔
وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَا جِزً ا ط[44]
ترجمہ: اور پانی کے دو ذخیروں کے درمیان پردے حائل کردیے۔ یہ مظہر متعدد مقامات پر وقوع پزیر ہوتا ہے جن میں جبل الطارق (جبرالٹر) کے علاقے میں بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس کے ملنے کا مقام نمایاں طور پر قابل ذکر ہے۔ اسی طرح کیپ پوائنٹ اور کیپ پینسولا جنوبی افریقا میں بھی (پانی کے بیچ) ایک سفید پٹی واضح طور دیکھی جاسکتی ہے جہاں بحر اوقیانوس اور بحر ہند کا ایک دوسرے سے ملاپ ہوتا ہے۔
لیکن جب قرآن پاک تازہ اور کھارے پانی کے درمیان رکاوٹ (آڑ) کا تذکرہ کرتا ہے تو اس آڑ کے ساتھ ایک ممنوعہ علاقے کے بارے میں بھی بتاتا ہے:
وَ ھُوَ الَّذِ یْ مَرَ جَ الْبَحْرَ یْنِ ھٰذَا عَذْ بُ فُرَا تُ وَّ ھٰذَا مِلْحُ اُ جَا جُ وَ جَعَلَ بَیْنَھُمَا بَرْ زَ خًا وَّ حِجْرً ا مَّحْجُوْ رًا ہ[45]
ترجمہ: اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا کر رکھا ہے، ایک لذیذ و شیریں، دوسرا تلخ و شور اور ان دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے ایک رکاوٹ ہے جو انہیں گڈمڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے۔
جدید سائنس نے دریافت کیا ہے کہ ساحل کے نزدیکی (سمندری) مقامات پر جہاں (دریا کا)تازہ (میٹھا) اور (سمندرکا) نمکین پانی آپس میں ملتے ہیں وہاں کی کیفیت ان مقامات سے قدرے مختلف ہوتی ہے جہاں دو سمندروں کے نمکین پانی آپس میں ملتے ہیں یہ دریافت کہ کھاڑیوں (سمندر کا شاخ) میں تازہ پانی کو کھاری پانی سے جو چیز جدا کرتی ہے وہ پایکنو کلائن زون (Pycnocline Zone) ہے جس کی کثافت غیر مسلسل ہوتی ہے (یعنی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے) جو (کھاری اور تازہ پانی کی) مختلف پرتوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھتی ہے۔[46][47]
اس رکاوٹ (یعنی علاقہ امتیاز) کے پانی میں نمک کا تنا سب (شوریت) تازہ پانی اور کھاری پانی دونوں ہی سے مختلف ہوتا ہے۔
اس مظہر کا مشاہدہ بھی متعدد مقامات پر کیا گیا ہے جن میں مصر بطور خاص قابل ذکر ہے کہ جہاں دریائے نیل بحیرہ روم میں گرتا ہے۔
قرآن پاک میں بیان کیے گئے ان سائنسی مظاہر کی تصدیق ڈاکٹر ولیم ہے' (Dr. William Hay) نے بھی کی ہے، جو کولوراڈو یونیورسٹی امریکا کے مشہور ماہر بحریات اور علوم ارضی کے پروفیسر ہیں۔

سمندر کی گہرائیوں میں اندھیرا
پروفیسر درگارائو (Darga Rao) دنیا کے جانے پہچانے ماہربحری ارضیات ہیں اور وہ شاہ عبد العزیز یونیورسٹی، جدہ (سعودی عرب) میں پروفیسر بھی رہ چکے ہیں۔ ان سے درج ذیل آیت مبارکہ پر تبصرہ کرنے کے لیے کہاگیا۔
اَوْکَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍلُُّجِّیٍّ یَّغْشٰہُ مَوْج مِّنْ فَوْ قِہ مَوْج مِّنْ فَوْقِہ سَحَاب ط ظُلُمٰت بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ ط اِذَآاَخْرَجَ یَدَہُ لَمْ یَکَدْ یَرٰ ہَا ط وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہُ نُوْرًافَمَالَہُ مِنْ نُّوْرٍ [48]
ترجمہ:۔ یا پھراس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا ہوجس پر ایک موج چھائی ہوئی ہو۔ اس کے اوپر ایک اور موج آ رہی ہو اور اس کے اوپر بادل ہو، تاریکی پر تاریکی مسلط ہے۔ آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے۔ اللہ جسے نور نہ بخشے اس کے لیے پھر کوئی نور نہیں۔
پروفیسر رائونے کہا کہ سائنس دان صرف حال ہی میں جدید آلات کی مدد سے یہ تصدیق کرنے کے قابل ہوئے ہیں کہ سمندر کی گہرائیوں میں تاریکی ہوتی ہے۔ یہ انسان کے بس سے باہر ہے کہ وہ 20یا 30میٹر سے زیادہ گہرائی میں اضافی سازو سامان اور آلات سے لیس ہوئے بغیر غوطہ لگا سکے۔ علائو ازیں، انسانی جسم میں اتنی قوت برداشت نہیں کہ جو 200 میٹر سے زیادہ گہرائی میں پڑنے والے آبی دبائو کا سامنا کرتے ہوئے زندہ بھی رہ سکے۔ یہ آیت تمام سمندروں کی طرف اشارہ نہیں کرتی کیونکہ ہر سمندر کو پرت در پرت تاریکی کا حامل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ یہ آیت مبارک بطور خاص گہرے سمندروں کی جانب متوجہ کرتی ہے کیونکہ قرآن پاک کی اس آیت میں بھی وسیع اور گہرے سمندر کی تاریکی کا حوالہ دیا گیا ہے، گہرے سمندر کی یہ تہ در تہ تاریکی دو اسباب کا نتیجہ ہے ۔

1۔ عام روشنی کی ایک شعاع سات رنگوں سے مل کر بنتی ہے۔ یہ سات رنگ با ترتیب، بنفشی، کاسنی، نیلا، سبز، پیلا، نارنجی اور سرخ ہے۔ روشنی کی شعاع جب پانی میں داخل ہوتی ہے تو انعطاف (Refrection) کے عمل سے گزرتی ہے اوپر کے دس سے پندرہ میٹر کے دوان پانی میں سرخ رنگ جذب ہو جاتی ہے۔ لہذا اگر کوئی غوطہ خود پانی میں پچیس میٹر کی گہرائی تک جا پہنچے اور زخمی ہو جائے تو وہ اپنے خون میں سرخی نہیں دیکھ پائے گا کیونکہ سرخ رنگ کی روشنی اتنی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتی۔ اسی طرح 30سے 50میٹر تک کی گہرائی تک آتے آتے نارنجی روشنی بھی مکمل طور پر جذب ہو جاتی ہے۔ پیلی روشنی 50 سے 110میٹر تک، سبز روشنی 100سے 200میٹر تک، نیلی روشنی 200میٹر سے کچھ زیادہ تک جبکہ کاسنی اور بنفشی روشنی اس سے بھی کچھ زیادہ گہرائی تک پہنچتے پہنچتے مکمل طور پر جذب ہو جاتی ہیں۔ پانی میں رنگوں کے اس طرح ترتیب وار غائب ہونے کی وجہ سے سمندر بھی تہ در تہ کرکے باریک ہوتا چلا جاتا ہے، یعنی اندھیرے کا ظہور بھی روشنی کی پر توں کی شکل میں پیدا ہوتا ہے۔ 1000میٹر سے زیادہ کی گہرائی میں مکمل اندھیرا ہوتا ہے۔[49]

2۔ دھوپ کی شعاعیں بادلوں میں جذب ہوتی ہیں۔ جو نسبتاً روشنی کی شعا عوں کو اِدھر اُدھربکھیرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بادلوں کے نیچے تاریکی کی ایک پرت (تہ) سی بن جاتی ہے۔ یہ تاریکی کی پہلی پرت ہے جب روشنی کی شعاعیں سطح سمندر سے ٹکراتی ہیں تو وہ (سمندری) لہروں کی سطح سے ٹکرا کر پلٹتی ہیں اور جگمگانے کا ساتاثردیتی ہیں، لہٰذا یہ (سمندری) لہریں ہیں جو روشنی کو منعکس کرتی ہیں تاریکی کی وجہ بنتی ہیں۔ غیر منعکس شدہ روشنی، سمندر کی گہرائیوں میں سرایت کر جاتی ہے۔ لہٰذا سمندر کے دو حصّے ہوئے، سطح کی امتیازی علامت روشنی اور گرمی ہیں۔ جب کہ اندھیرا سمندری گہرائیوں کی وجہ سے ہے۔ علاوہ ازیں گہرے سمندر اور سطح سمندر کو ایک دوسرے سے ممتاز کرنے والی چیز بھی لہریں ہی ہیں۔
اندرونی موجیں سمندر کے گہرے پانیوں کا احاطہ کرتی ہیں کیونکہ گہرے پانیوں کی کثافت اپنے اوپر موجود کم گہرائی والے پانیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اندرونی پانیوں میں تاریکی کا راج ہوتا ہے۔ سمندر کی اتنی گہرائی میں مچھلیاں بھی نہیں دیکھ سکتیں۔ روشنی کا واحد ذریعہ خود ان کے جسم ہوتے ہیں۔
اسی بات کو قرآن پاک نہایت جامع انداز میں بیان کرتے ہوئے کہتا ہے۔
ترجمہ:۔ مثل ان اندھیروں کے ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہ میں، جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانپ رکھاہو۔ بالفاظ دیگر ان لہروں کے اوپر مزید اقسام کی لہریں ہیں یعنی وہ لہریں جو سمندر کی سطح پر پائی جائیں۔ اسی تسلسل میں یہ آیت مبارکہ فرماتی ہے۔پھر اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ غرض اندھیروں میں جواوپر تلے پے درپے ہیں۔ جیسا کہ وضاحت کی گئی یہ بادل وہ پے در پے رکاوٹیں ہیں۔ جو مختلف سطحوں پر روشنی کے مختلف رنگ جذب کرتے ہوئے اندھیرے کو بڑھا وا دیتی چلی جاتی ہیں۔ پروفیسر درگاائونے یہ کہتے ہوئے اپن بات مکمل کی 1400سال پہلے کوئی عام انسان اس مظہرکو اتنی تفصیل سے بیان نہیں کر سکتا تھا۔ لہٰذا یہ معلومات یقیناً کسی مافوق الفطرت(super natural) ذریعے سے آئی ہیں۔
ترجمہ:۔ اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا پھر اس سے نسب اور سسرال کے دو الگ سلسلے چلائے۔ تیرا رب بڑا ہی قدرت والا ہے۔[50]

ارضیات (Geology)
خیموں کی میخوں کی مانند پہاڑ
ارضیات (Geology) میں بل پڑے (Folding Phenamenon) کا مظہر حالیہ دریافت شدہ حقیقت ہے۔ قشرارض (Earth's Crust) میں بل پڑنے ہی کی وجہ سے پہاڑی سلسلے وجود میں آتے ہیں۔ قشرارض، جس پر ہم رہتے ہیں، کسی ٹھوس گولے کی طرح ہے، جبکہ کرہ زمین کی اندرونی پر تیں (layers)، نہایت گرم اور مائع ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ زمین کا اندرون کسی بھی قسم کی زندگی کے لیے قطعاً غیر موزوں ہے۔ آج ہمیں یہ بھی معلو م ہو چکا ہے کہ پہاڑوں کے استحکام کا تعلق، قشر ارض پر پڑنے والے بل ہی ہیں جو پہاڑوں کا کام کرتے ہیں۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ زمین کا رداس (Radius) یعنی نصف قطر (Diameter) تقریباً 6035 کلو میٹر ہے اور قشرارض یعنی (Earth Crust)، جس پر ہم رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بہت پتلی ہے، جس کی موٹائی 2کلو میٹر سے لے کر 35کلو میٹر تک ہے۔ چونکہ قشرارض بہت پتلی ہے، لہذا اس کے تھر تھرانے یا ہلنے کا امکان بھی زیادہ ہے، ایسے میں پہاڑ کسی خیمے کی میخوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ جو قشرارض کو تھام لیتے ہیں اور اسے استحکام (Stability) عطا کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں بھی عین یہی کہا گیا ہے۔
اَ لَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدً ا ہ وَّالْجِبَا لَ اَوْ تَا دً ا ہ[51]
ترجمہ:۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔
یہاں عربی لفظ اوتاد کا مطلب بھی میخیں ہی نکلتا ہے، ویسی ہی میخیں جیسی کہ خیمے کو باندھے رکھنے کے لیے لگائی جاتی ہیں۔ ارضیاتی بلوں یا سلوٹوں کی گہری بنیادیں بھی یہی ہیں۔ ایک کتاب جس کا نام Earth ہے اور یہ دنیا بھر کی کئی جامعات (Universities) میں ارضیات کی بنیادی حوالہ جاتی نصابی کتاب کا درجہ بھی رکھتی ہے، اس کتاب کے مصنفین میں ایک نام ڈاکٹر فرینک پریس (Frank Press) کا بھی ہے، جو 12سال تک امریکا اکیڈمی آف سائنسز کے سربراہ رہے ہیں۔ جبکہ سابق امریکی صدرجمی کارٹر کے زمانے میں صدارتی مشیر بھی تھے۔ اس کتاب میں وہ پہاڑوں کی وضاحت، کلہاڑی کے پھل (Wedge Shape) جیسی شکل سے کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پہاڑ بذات خود ایک وسیع تر وجود کا ایک چھوٹا حصہ ہوتا ہے۔ جس کی جڑیں زمین میں بہت گہرائی تک اتری ہوتی ہیں۔[52][53]
ڈاکٹر فرینک پریس کے مطابق، قشرارض کی پائیداری اور قیام پذیری میں پہاڑ نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پہاڑوں کے کاموں کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن پاک واضح طور پر یہ فرماتا ہے کہ انہیں اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ یہ زمین کو لرزتے رہنے سے بچائیں:
وَ جَعَلْنَا فِی الْاَ رْضِ رَوَسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِھِم [54]
ترجمہ:۔ اور ہم نے زمین میں پہاڑ جمادیے تاکہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔
اسی طرح کے ارشادات سورة 31آیت 10سورة 10آیت 15میں بھی وارد ہوئے ہیں، لہذا قرآن پا ک کے فراہم کردہ بیانات جدید ار ضیاتی معلوم سے مکمل طر پر ہم آہنگ ہیں۔

پہاڑوں کو مضبوطی سے جماد یا گیا ہے
سطح زمیں متعدد ٹھوس ٹکڑوں یعنی پلیٹوں میں ٹوٹی ہوئی ہے جنکی اوسط موٹائی تقریباً 100کلو میٹر ہے۔ یہ پلیٹیں، جزوی طور پر پگھلے ہوئے حصے کے اوپر تیر رہی ہیں۔ اس حصے کو ایتسیو سفیر (Aesthenosphere) کہا جاتا ہے۔ پہاڑ عموماً پلیٹوں کی بیرونی حدود پر پائے جاتے ہیں۔ قشر آرض (Earth Crust) سمندروں کے نیچے 5کلو میٹر موٹی ہوتی ہے جبکہ خشکی پر اس کی اوسط موٹائی 35کلو میٹر ہوتی ہے۔ البتہ پہاڑی سلسلوں میں قشرارضح کی موٹائی 80کلو میٹرتک جا پہنچتی ہے، یہی وہ مضبوط بنیادیں ہیں جن پر پہاڑ کھڑے ہیں پہاڑوں کی مضبوط بنیادوں کے بارے میں قرآن پاک نے درج ذیل آیت مبارکہ میں کچھ یوں بیان فرمایا ہے۔
وَ الْجِبَا لَ اَرْ سٰھَا ہ[55]
ترجمہ:۔ اور پہاڑوں کو اس نے مضبوطی سے جما دیا۔
اسی طرح کا پیغام سورة نمبر 88آیت 19میں بھی دیا گیا ہے پس یہ ثابت ہوا کہ قرآن پاک میں پہاڑوں کی خصوصیت اور نوعیت کے بارے میں دی گئی معلومات بھی پوری طرح دور جدید کی ارضیاتی دریافتوں سے ہم آہنگ ہیں۔

فعلیات (Physiology)
خون کی گردش (Blood circulation) اور دودھ۔ قرآن پاک کا نزول، دوران خون کی وضاحت کرنے والے اولین مسلمان سائنس دان ابن النفیس سے ٦٠٠(چھ سو)سال پہلے اور اس دریافت کو مغرب میں روشناس کروانے والے ولیم ہاوے(William Harwey) سے ١٠٠٠(ایک ہزار) سال پہلے ہوا تھا۔ تقریباً تیرہ صدیوں پہلے یہ معلوم ہوا کہ آنتوں کے اندر ایسا کیا کچھ ہوتا ہے۔ جو نظام۔ ہاضمہ(Digestive System) میں انجام پانے والے افعال کے ذریعے دیگر جسمانی اعضاء کی نشود نما کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ قرآن پاک کی ایک آیت مبارکہ، جو دودھ کے اجزاء کے ماخذ کی وضاحت کرتی ہے اس تصور کی عین مطابقت میں ہے۔
مذکورہ بالا تصور کے حوالے سے آیت قرآنی کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ آنتوں میں کیمیائی تعاملات (chemical reaction) واقع ہوتے ہیں اور یہ کہ آنتوں ہی سے ہضم کردہ غذا سے اخذ کیے ہوئے مادے ایک پیچیدہ نظام سے گزر کر دوران خون میں شامل ہوتے ہیں۔ کھبی وہ (مادوں )کو تمام اعضاء تک پہنچاتا ہے جن میں دودھ پیدا کرنے والے (چھاتیوں کے ) غدود بھی شامل ہیں۔
سادہ الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آنتوں میں موجود غذا کے بعض مادے آنتوں کی دیوار سے سرایت کرتے ہوئے خون کی نالیوں (Vessels)میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر خون کے راستے یہ دوران خون کے ذریعے کئی اعضا تک جا پہنچتے ہیں۔ یہ فعلیاتی تصور مکمل طور پر لازماً ہماری گرفت میں آجائے گا۔ اگر ہم قرآن پاک کی درج ذیل آیات مبارکہ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
وَ اِ نَّ لَکُمْ فِی الْاَ نْعَا مِ لَعِبْرَ ةً ط نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْ نِہ مِنْ م بََیْنَ فَرْ ثٍ وَّ دَ مٍٍ لَّبَنًا خَا لِصًا سَآ ئِغًا لِّلشّّٰرِ بِیْنَ ہ[56]
ترجمہ:اورتمھارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے۔ ان کے پیٹ سے گوبر اورخون کے درمیان سے ہم تمھیں ایک چیز پلاتے ہیں، یعنی خالص دودھ، جو پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوا رہے۔
وَ اِ نَّ لَکُمْ فِی الْاَ نْعَا مِ لَعِبْرَ ةً نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْ نِہَا وَ لَکُمْ فِیْھَا مَنَا فِعُ کَثِیْرَ ةُ وَّ مِنْھَا تَا کُلُوْ نَ ہ[57]
ترجمہ:۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تمھارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے۔ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں ایک چیز (یعنی دودھ )ہم تمھیں پلاتے ہیں اور تمھارے لیے ان میں بہت فائدہ بھی ہیں۔ ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔
١٤٠٠ سال قبل، قرآن پاک کی فراہم کردہ یہ وضاحت جوگائے میں دودھ کے پیدا ہونے کے حوالے سے ہے، حیرت انگیز طور پر جدید فعلیات (physiology) سے بھر پور انداز میں ہم آہنگ ہے جس نے اس حقیقت کو حال ہی میں دریافت کیا ہے۔

ریاضیات (Mathematics)
پانی اور خشکی قرآن میں
قرآن مجید میں بحر (یعنی سمندر) کا لفظ 32 مرتبہ آیا ہے اور البر (یعنی خشکی) کا لفظ 13 مرتبہ آیا ہے۔ آئیے ایک ریاضی اور سائنسی ایکویشن کے ذریعے چیک کرتے ہیں۔ اس میں پہلے ہم دونوں کو جمع کرے گے پھر ایک ایک (یعنی 13 اور 32) کو ٹوٹل (یعنی 45) پہ تقسیم کرے نگے اور پرسنٹیج نکالنے کے لیے 100 سے ضرب (ملٹی پلائی) کرے نگے :
البر: 13 مرتبہ
البحر: 32 مرتبہ
دونوں: 13+32= 45

آئیے پہلے البحر یعنی سمندر یا پانی کا موازنہ کرتے ہیں:
=(32/45) 100
=71.9%
اب البر یعنی خشکی کا موازنہ کرتے ہیں۔ البر کا استعمال 13 مرتبہ ہوا ہے:
=(13/45) 100
= 28.1%

کیا آپ نے غور کیا کہ سمندر کا جواب 71.9 فیصد یا اس کے تقریباً آیا اور پانی کا 28.1 فیصد۔ اور ہم جانتے ہیں کہ سمندر دنیا میں 71.9 فیصد اور خشکی 28.1 فیصد ہے لیکن یہ بات قرآن کے نشانیوں نے ہمیں 1400 پہلی بتائی ہے۔
قرآن اور جدید سائنس قرآن اور جدید سائنس Reviewed by محمد فاروق on جولائی 19, 2019 Rating: 5

تدوینِ قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ

فروری 13, 2019

قرآن مجید“ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے، جو آخری نبی جناب محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی ہے، قیامت تک کوئی اور کتاب نازل نہ ہوگی، یہ زندگی کا وہی دستورِ کہن ہے جو ہمارے آبائے اولین کو ملا تھا، اس میں اصولاً اسی کا اعادہ اور عہد کی تجدید ہے، یہ خدائی عطیہ، ہمارا مشترکہ روحانی ترکہ ہے، جو منتقل ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے، اسے دوسری آسمانی کتابوں کا آخری اور دائمی ایڈیشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ ابتدائے نزول سے آج تک بلا کسی ادنیٰ تغیر و تبدل کے باقی ہے، اس میں سرِ مو کوئی فرق نہیں آیا، ایک لمحہ کے لیے نہ تو قرآن مسلمانوں سے جدا ہوا اور نہ مسلمان قرآن سے جدا ہوئے، اس میں باطل کے در آنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے: ”لاَ یَأتِیْہِ الْبَاطِلُ مِن بَیْنَ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہ “(حم سجدہ)


          ”قرآن مجید“ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے، جو آخری نبی جناب محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی ہے، قیامت تک کوئی اور کتاب نازل نہ ہوگی، یہ زندگی کا وہی دستورِ کہن ہے جو ہمارے آبائے اولین کو ملا تھا، اس میں اصولاً اسی کا اعادہ اور عہد کی تجدید ہے، یہ خدائی عطیہ، ہمارا مشترکہ روحانی ترکہ ہے، جو منتقل ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے، اسے دوسری آسمانی کتابوں کا آخری اور دائمی ایڈیشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ ابتدائے نزول سے آج تک بلا کسی ادنیٰ تغیر و تبدل کے باقی ہے، اس میں سرِ مو کوئی فرق نہیں آیا، ایک لمحہ کے لیے نہ تو قرآن مسلمانوں سے جدا ہوا اور نہ مسلمان قرآن سے جدا ہوئے، اس میں باطل کے در آنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے: ”لاَ یَأتِیْہِ الْبَاطِلُ مِن بَیْنَ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہ “(حم سجدہ)
          (ترجمہ:) قرآن مجید میں باطل نہ تو سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے۔
          آسمانی کتابوں میں قرآن مجید ہی کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ یہ قیامت تک اپنی اصل حالت پر رہے گا، خود اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، ایک جگہ بڑے ذور دار انداز میں ارشاد فرمایا: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ (حجر ۹)
          (ترجمہ:) ہم نے ہی ذکر (قرآن مجید) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔
          صرف الفاظ نہیں؛ بلکہ معانی و مطالب کی تشریح و توضیح کی ذمہ داری بھی خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے، ایک جگہ ارشاد ہے: ”ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہ“ (ترجمہ) پھر ہم پر ہی اس کا بیان (بھی) ہے۔
          قرآن مجید کا نزول ضرورت و حاجت کے مطابق تھوڑا تھوڑا ہوتا رہا، کبھی ایک آیت کبھی چند آیتیں نازل ہوتی رہیں، نزول کی ترتیب موجودہ ترتیب سے بالکل الگ تھی، یہ سلسلہ پورے عہد نبوی کو محیط رہا؛ بلکہ رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری لمحات تک جاری رہا؛ اس لیے آپ ﷺ کے سامنے آج کی طرح کتابی شکل میں منصہ شہود پر آنا مشکل؛ بلکہ ناممکن تھا، ہاں! یہ بات ضرور ہے کہ ہر آیت کے نازل ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکھوا لیتے تھے اور زمانہ کے لحاظ سے نہایت ہی پائدار چیز پر لکھواتے تھے؛ چنانچہ پورا قرآن مجید بلا کسی کم و کاست کے لکھا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہٴ مبارکہ میں موجود تھا، اس میں نہ تو کوئی آیت لکھنے سے رہ گئی تھی اور نہ ہی کسی کی ترتیب میں کوئی کمی تھی؛ البتہ سب سورتیں الگ الگ تھیں، اور متعدد چیزوں پر لکھی ہوئی تھیں، کتابی شکل میں جلد سازی اور شیرازہ بندی نہیں ہوئی تھی:
          قد کان القرآنُ کُلُّہ مکتوباً فی عَھْدِہ صلی اللہ علیہ وسلم لکن غیرَ مجموعٍ في مَوضِعٍ واحدٍ۔ (الکتابي ج ۲ص ۳۸۴ بحوالہ تدوینِ قرآن ص ۴۳)
          (ترجمہ:) پورا قرآن مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لکھا ہوا تھا؛ لیکن ایک جگہ جمع نہیں تھا۔
          حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کتابی شکل میں جمع کرایا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کی محقق نقلیں تیار کرکے ہر طرف پھیلایا؛ بلکہ پوری امت کو اس پر جمع کیا۔ آج تک قرآن مجید اسی کے مطابق موجود ہے۔
حفاظتِ قرآن مجید کے طریقے
          ابتدائے نزول سے قرآن مجید کی حفاظت جس طر ”لکھ کر“ ہوئی ہے، اس سے کہیں زیادہ ”حفظ“ کے ذریعہ ہوئی ہے، سینہ بہ سینہ حفظ کی خصوصیت صرف اسی آخری کتابِ الٰہی کو نصیب ہوئی، تو رات، انجیل اور دوسری آسمانی کتابوں اور صحیفوں کی حفاظت صرف سفینہ میں ہوئی، اس لیے وہ تغیر و تبدل اور دوسرے حوادث کا شکار ہو گئیں، قرآن مجید کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب فرماتے ہوئے، ارشاد فرمایا:
          و مُنَزِّلٌ علیکَ کتاباً لا یغسِلْہ الماء۔ (صحیح مسلم)
          (ترجمہ:) میں آپ پر ایسی کتاب نازل کرنے والا ہوں جس کو پانی نہیں دھو سکے گا۔
          غرض یہ کہ قرآن کی حفاظت شروع شروع میں سب سے زیادہ حافظہ کے ذریعہ ہوئی اور حفاظت کا سب سے اہم ذریعہ یہی ہے، اسی وجہ سے آج تک یہ کتاب مقدس اپنی اصل حالت پر باقی ہے، صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے خداداد بے نظیرحافظے کو جاہلیت کے اشعار، انسابِ عرب حتی کے اونٹوں اور گھوڑوں کی نسلوں کے حفظ سے ہٹا کر، آیاتِ الٰہی کے حفظ پر لگادیا، عرب کے ضرب المثل حافظے نے چند ہی دنوں میں ہزاروں حفّاظِ آیاتِ الٰہی کو معرضِ شہود میں لا کھڑا کر دیا، حفّاظ کی کثرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ: صرف ”جنگ ِیمامہ“ میں شہید ہونے والے حافظوں کی تعداد سات سو تھی، بخاری شریف کے حاشیہ میں ہے: وکان عِدَّةٌ مِن القُرّاء سَبْعَ مائة (۲/۷۴۵)۔
          سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبریل علیہ السلام جب قرآن مجید پڑھ کر سناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی دہرانے لگے تھے؛ تاکہ خوب پختہ ہو جائے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: لا تُحَرِّک بہ لِسانَک لِتَعْجَلَ بہ، انّ علینا جَمْعَہ وقُرآنَہ۔ (قیامہ۱۷)  (ترجمہ:) آپ قرآن مجید کو جلدی جلدی یاد کرلینے کی غرض سے، اپنی زبان کو حرکت نہ دیجیے، (اس لیے کہ) قرآن مجید کو جمع کرنے اور اس کو پڑھوانے کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے۔
کتابت کا اہتمام
          زبانی یاد کرنے اور کرانے کے ساتھ ہی سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیات کی حفاظت کے لیے کتابت (لکھانے) کا بھی خوب اہتمام فرمایا، نزول کے ساتھ ہی بلا تاخیر آیات قلم بند کرا دیتے تھے:
          فکان اذا نَزَلَ علیہ الشئیُ دَعَا بَعْضَ مَنْ کان یَکْتُبُ فیقولُ: ضعوا ھٰذا في السُّورة التي یذکر فیھا کذا و کذا۔ (مختصر کنزص ۴۸ بحوالہ تدوین قرآن ص۲۷)۔
          (ترجمہ:) چنانچہ رسول اللہ ﷺ پر جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی، تو (بلاتاخیر) جو لکھنا جانتے تھے، ان میں سے کسی کو بلاتے اور ارشاد فرماتے کہ: اس آیت کو اس سورت میں لکھو جس میں فلاں فلاں آیتیں ہیں۔
          اور مجمع الزوائد میں یہاں تک ہے: کان جبریلُ علیہ السلام یُملي علی النبيّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ (۷/۱۵۷) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبریل قرآن مجید لکھواتے تھے۔
          مسند احمد کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاد فرمایا: آتاني جبریلُ فأمَرَني۔(کنز العمال ۲/۴۰) یعنی حضرت جبریل علیہ السلام نے آکر مجھے (فلاں آیت کو فلاں جگہ رکھنے کا) حکم دیا۔
          غرض یہ کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم آیات لکھانے کا بھی خوب اہتمام فرماتے تھے، اور لکھانے کے بعد سن بھی لیتے تھے، اگر کوئی فرو گذاشت ہوتی تو اس کی اصلاح فرما دیتے تھے: فإن کان فیہ سَقَطٌ أقَامہ۔(مجمع الزوائد۱/۶۰) پھر یہ لکھی ہوئی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاس محفوظ فرما لیتے تھے۔
          صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر لکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سناتے تھے، اس طرح بہت سے صحابہٴ کرام کے پاس سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھائی ہوئی آیات موجود تھیں، بعض کے پاس پورا پورا قرآن مجید لکھا ہوا تھا۔
سامانِ کتابت
          نزولِ قرآن مجید کے زمانہ میں ایجادات و مصنوعات کی کمی ضرور تھی، جس طرح آج کاغذ، قلم اور دوات کی بے شمار قسمیں دریافت ہیں، اس زمانہ میں اتنی ہرگز نہ تھیں؛ لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس وقت کاغذ اور کتابیں دریافت نہ تھیں، یمن، روم اور فارس میں کتب خانے بھی تھے، یہود و نصاریٰ کے پاس کتابوں کا ذخیرہ موجود تھا، اس زمانے میں ”کاغذ“ وغیرہ کی صنعتیں بھی تھیں؛ لیکن بڑے پیمانے پر نہ ہونے کی وجہ سے کاغذ وغیرہ ہر جگہ دریافت نہ تھے؛ اس لیے لکھنے کے لیے جو چیز بھی قابل اور پائدار سمجھ میں آتی اس پر لکھ لیا جاتا تھا۔ (التبیان فی علوم القرآن ص۴۹)
          قرآن مجید کی کتابت کے لیے بھی اس وقت کی ایسی پائدار چیزیں استعمال کی گئیں، جن میں حوادث وآفات کے مقابلے کی صلاحیت نسبتاً زیادہ تھی؛ تاکہ مدتِ دراز تک محفوظ رکھا جا سکے۔ (تدوین قرآن ص ۳۱)حافظ ابن حجر کی تحقیق کے مطابق کتابتِ قرآن میں درج ذیل چیزیں استعمال کی گئیں:
          (الف) زیادہ تر پتھروں کی چوڑی اور پتلی سلوں (لِخاف) کو استعمال کیا گیا، اِسے ہم سلیٹ کہہ سکتے ہیں۔
          (ب) اونٹوں کے مونڈھوں کی چوڑی گول ہڈیوں (کَتِف) پر بھی لکھا گیا، مونڈھوں کی ہڈیوں کو نہایت اچھی طرح گول تراش کر تیار کیا جاتا تھا۔
          (ج) چمڑوں کے کافی باریک پارچوں (رِقاع) پر بھی قرآن مجید لکھا جاتا تھا، یہ ٹکڑے نہایت باریک ہوتے تھے، اور لکھنے کے لیے ہی تیار کیے جاتے تھے، گوشت خور ملک میں اس کی بڑی افراط تھی۔
          (د) بانس کے ٹکڑوں پر بھی آیات لکھی جاتی تھیں۔
          (ھ) درخت کے چوڑے اور صاف پتے بھی کتابت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
          (و) کھجور کی شاخوں کی چوڑی جڑوں (عسیب) اور کھجور کے جڑے ہوے پتوں کو کھول کر ان کی اندرون جانب بھی آیات کی کتابت ہوتی تھی۔
          (ز) محدثین نے کاغذ پر بھی کتابتِ قرآن کا ذکر کیا ہے۔ (فتح الباری ۹/۱۷)
سورتوں اور آیتوں کی ترتیب
          پوری امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ قرآن مجید میں سورتوں اور آیتوں کی ترتیب توقیفی ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پورا قرآن مجیدمرتب طور پر لکھوایا، آج بھی اسی ترتیب سے قرآن مجید لکھا اور پڑھا جارہا ہے، اور قیامت تک اسی طرح رہے گا۔
          پورا قرآن مجید بائیس سال، پانچ ماہ، چودہ دن میں نازل ہوا (مناہل العرفان ص۴۳)، حسبِ ضرورت کبھی ایک آیت، کبھی چند آیتیں اور کبھی پوری سورہ کی شکل میں آیات نازل ہوتی رہیں، اور ساتھ ہی یہ بھی حکم ہوتا کہ اس کو فلاں سور ہ کے فلاں مقام پر رکھ دیجیے؛ چنانچہ کاتبینِ وحی کو بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ضَعواھا في مَوضع کذا (التبیان في علوم القرآن ص۴۹، فتح الباری ۹/۲۷) (ترجمہ:) اس کو فلاں مقام پر لکھو!
عہدِ نبوی میں قرآن مجید کے نسخے
          جیسا کہ اوپر گذرا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزولِ وحی کے ساتھ ہی آیات لکھوا لیا کرتے تھے، اور لکھانے کے ساتھ سن بھی لیتے تھے، پھر اسے اپنے پاس محفوظ فرما لیتے تھے، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پورا قرآن مجید لکھی ہوئی شکل میں بھی موجود تھا؛ لیکن ایک جلد میں مجلد نہ تھا، مختلف چیزوں پر لکھا ہوا تھا۔
          صحابہٴ کرام میں جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ،وہ خدمت ِنبوی میں پہنچ کر آیات لکھ لیتے تھے، جب کسی سورت میں آیت کا اضافہ ہوتا تو معلوم کرکے مرتب فرما لیتے تھے، اس طرح بہت سے صحابہٴ کرام کے پاس سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا مصدقہ نسخہٴ قرآن موجود تھا، بعض کے پاس پورا قرآن بھی تھا اور بعض کے پاس چند سورتیں اور چند آیتیں تھیں، لکھنے لکھانے کا سلسلہ بالکل ابتداء سے کثرت سے جاری تھی، اس کی شہادت درج ذیل روایتوں سے ملتی ہے:
          (۱) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے والی روایت میں ہے کہ: ان کی بہن فاطمہ اور بہنوئی سعید بن زید رضی اللہ عنہما ان سے پہلے ہی مسلمان ہو چکے تھے، وہ حضرت خباب بن الارث سے قرآن پڑھ رہے تھے، جب حضرت عمر نہایت غضب ناک حالت میں ان کے پاس پہنچے تو ان کے سامنے ایک صحیفہ تھا جس کو انہوں نے چھپا دیا تھا، اس میں سورہ طہ کی آیات لکھی ہوئی تھیں۔ (سنن دار قطنی ۱/ ۱۲۳ باب نہی المحدث عن مس القرآن، دار نشر لاہور)
          (۲) امام بخاری علیہ الرحمہ نے ”کتاب الجہاد“ میں ا یک روایت نقل کی ہے، جس میں ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصاحف (لکھا ہوا قرآن مجید) لے کر دشمنوں کی زمین میں جانے سے منع فرما دیا تھا۔ (صحیح بخاری۱/۴۱۹)
          (۳)حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے مشورہ سے جب قرآن مجید کے اجماعی نسخہ کی کتابت کا وقت آیا تو اس وقت حضرت زید بن ثابت کو پابند کیا گیا تھا کہ: جو کوئی بھی لکھی ہوئی آیت لے کر آئے ،اس سے دو گواہوں کی گواہی اس بات پر لیجیے کہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی ہے ؛چناں چہ اس پر عمل ہوا (الاتقان ۱/۷۷)
          مذکورہ بالا تینوں روایتوں اور ان کے علاوہ بہت سی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عہدِ نبوی میں بہت سے صحابہٴ کرام کے پاس آیات لکھی ہوئی تھیں؛ بلکہ بعض کے پاس پورا قرآن مجید بھی لکھی ہوئی شکل میں موجود تھا۔
عہد صدیقی میں تدوینِ قرآن مجید
          ایک موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: أعظمُ النّاسِ في المصاحب أجراً أبوبکرٍ، رحمہُ اللہ علی أبي بکر، ھو أوّلُ مَنْ جَمَعَ کتابَ اللہ۔ (الاتقان في علوم القرآن ۱/۷۶)
          (ترجمہ:) قرآن مجید کی خدمت کے سلسلے میں سب سے زیادہ اجر و ثواب کے مستحق ابوبکرصدیق ہیں، اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائیں کہ وہ اولین شخصیت ہیں، جنہوں نے، جمعِ قرآن کا (مایہ ناز) کارنامہ انجام دیا۔
          سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکمل قرآن مجید مختلف چیزوں پر لکھا ہوا تھا، سارے اجزا الگ الگ تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی تمام سورتوں کوا یک ہی تقطیع اور سائز پر لکھوا کر ایک ہی جلد میں مجلد کروانے کا کام حکومتی اور اجماعی طور پر انجام دیا؛ چنانچہ ایسا نسخہ مرتب ہو گیا جس کو سارے صحابہٴ کرام کی اجماعی تصدیق حاصل ہوئی۔
          حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی خدمت کو حکومت کی طرف سے انجام دینے کا مطالبہ کر رہے تھے، وہ چاہتے تھے کہ خلافت و حکومت اس مہم کو اپنے ہاتھ میں لے اور اپنی نگرانی میں اس کو مکمل کرائے؛ تاکہ قرآن مجید ضائع ہونے سے بچ جائے اور بعد میں کتاب اللہ میں اختلاف پیدا نہ ہو۔
          حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت امام بخاری علیہ الرحمہ نے نقل فرمائی ہے، فرماتے ہیں کہ:
          ”جنگ یمامہ“ کے فوراً بعد صدیق اکبر نے میرے پاس بلاوا بھیجا، میں ان کے پاس پہنچا تو وہاں حضرت عمر فاروق بھی موجود تھے، حضرت ابوبکر مجھ سے مخاطب ہوئے کہ: عمر نے ابھی آکر مجھ سے کہا کہ: جنگ ِیمامہ میں حفاظِ کرام کی ایک بڑی تعداد شہید ہو گئی ہے، اگر آئندہ لڑائیوں میں بھی اسی طرح حفاظ شہید ہوتے رہے تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں قرآن کریم کا بڑا حصہ ناپید نہ ہو جائے!
          لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن مجید جمع کرنے کا حکم دے دیں، میں نے کہا کہ: جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے، وہ ہم کیسے کریں؟ عمر نے جواب دیا کہ: بہ خدا! یہ کام بہتر ہے، اس کے بعد عمر بار بار مجھ سے یہ کہتے رہے ؛یہاں تک کہ مجھے بھی اس پر شرحِ صدر ہو گیا، اور اب میری رائے بھی وہی ہے جو عمر کی ہے!
          اِنَّکَ رجلٌ شابٌّ عاقلٌ، لا نَتَّھِمُکَ، وقد کُنْتَ کتبتَ الوحيَ لرسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فَتَتَبَّعِ القرآنَ فاجمعْہُ۔(ترجمہ:) واقعہ یہ ہے کہ تم نوجوان، سمجھ دار آدمی ہو، ہمیں تمہارے بارے میں کوئی بدگمانی نہیں ہے، اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتابتِ وحی کی خدمت بھی کر چکے ہو؛ اس لیے تم قرآن کریم کو تلاش کرکے جمع کرو!
          حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: خدا کی قسم! اگر یہ حضرات مجھے پہاڑ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو مجھے اتنا مشکل نہ ہوتا، جتنا جمعِ قرآن کا بار ہوا، میں نے کہا بھی کہ: آپ حضرات ایسا کام کیوں کر رہے ہیں ،جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا؟ اس پر حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ: خدا کی قسم یہ کام بہتر ہے، اور حضرت ابوبکر بار بار یہی دہراتے رہے؛ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ اس کام کے لیے کھول دیا، جس کام کے لیے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو شرحِ صدر عطا فرمایا تھا؛چنانچہ میں نے کھجور کی شاخوں، پتھر کی باریک تختیوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن مجید تلاش کرکے جمع کرنا شروع کر دیا؛ یہاں تک کہ توبہ کی آیت ؛لقد جاء کم رسولٌ مِنْ انفسِکم اخیر سورہ تک“ میں نے صرف حضرت ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی، ان کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں پایا، ان کی تنہا شہادت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمی کی شہادت کے قائم مقام قرار دیاتھا (صحیح بخاری ۲/ ۷۴۵، ۷۴۶)
جمعِ قرآن میں حضرت زید بن ثابت کا طریقہٴ کار
          حضرت ابوبکر و عمر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سب حافظِ قرآن تھے ،ان کے علاوہ بھی صحابہٴ کرام میں حفاظ کی کمی نہیں تھی، اگر حضرت زید چاہتے تو اپنے حافظہ سے پورا قرآن مجید لکھ دیتے، یا حافظ صحابہٴ کرام کو اکٹھا کرکے محض ان کے حافظے کی مدد سے بھی قرآن مجید لکھا جا سکتا تھا، اسی طرح محض رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کی لکھی ہوئی آیتوں سے بھی قرآن مجید لکھا جا سکتا تھا؛ لیکن حضرت ابوبکر نے بیک وقت سارے وسائل کو برروئے کار لانے کا حکم فرمایا، خود بھی شریک رہے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی حضرت زید کے ساتھ لگایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اعلان فرمایا کہ:
          جن لوگوں نے جو کچھ بھی آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھی ہو، وہ سب لے کر آئیں! (فتح الباری۹/۱۷) چنانچہ جب کوئی لکھی ہوئی آیت آتی تو بلا چوں و چرا قبول نہ کی جاتی تھی؛ بلکہ اس پر دو گواہی طلب کی جاتی تھی:
          وکان لا یَقْبَلُ مِنْ أحدٍ شیئاً حتی یَشْھَدَ شَاھِدَان۔ (الاتقان ۱/۷۷)
          (ترجمہ:) اور کسی سے بھی کوئی آیت اس وقت تک قبول نہ کی جاتی تھی جب تک کہ اس پر دو گواہ گواہی نہ دے دیتے (کہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی، یعنی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کی تصدیق ہو چکی ہے کہ یہ واقعتا آیتِ الٰہی ہے)۔
          جمع قرآن میں درج ذیل باتیں بھی پیشِ نظر رکھی گئیں:
          ۱۔  سب سے پہلے حضرت زید اپنی یاد داشت سے اس کی تصدیق فرماتے تھے۔
          ۲۔  حضرت ابوبکر نے حضرت زید اور حضرت عمر دونوں حضرات کو حکم دیا تھا کہ: ”آپ دونوں حضرات مسجدِ نبوی کے دروازے پر بیٹھ جاےئے، پھر جو کوئی آپ دونوں کے پاس کتاب اللہ کی کوئی آیت دو گواہوں کے ساتھ لے کر آئے ،اس کو آپ دونوں لکھ لیجیے! (فتح الباری ۹/۱۷، الاتقان ۱/۷۷)
          رسول اللہ ﷺ کے سامنے کتابت ہونے پر گواہیاں لی جانے کی کیا وجہ تھی؟ اس سلسلے میں حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں لکھتے ہیں:) کانَ غزضُھم أن لا یُکْتَبَ الاّ منْ عَیْنِ ما کُتِبَ بین یَدَي النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا مِنْ مْجَرَّدِ الحِفظ ۔ ( فتح الباری ۹/۱۷، الاتقان ۱/۷۷)
           (ترجمہ:) ان کا مقصد یہ تھا کہ: صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عین سامنے لکھی گئی آیتوں کو ہی لکھا جائے، محض حافظہ سے نہ لکھا جائے۔
          حافظ ابن حجر نے ہی ایک دوسری وجہ بھی لکھی ہے کہ: گواہیاں اس بات پر بھی لی جاتی تھیں کہ: دو گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ لکھی ہوئی آیت ان وجوہ (سبعہ) کے مطابق ہے جن پر قرآن مجید نازل ہوا ہے (فتح الباری ۹/ ۱۷، الاتقان۱/۷۷)
          ۳۔  لکھنے کے بعد صحابہٴ کرام کے پاس موجود لکھے ہوئے مجموعوں سے ملایا جاتا؛ تاکہ یہ مجموعہ متفقہ طور پر قابلِ اعتماد ہو جائے، (البرہان في علوم القرآن للزرکشی ۱/۲۳۸)
          جب اجتماعی تصدیق کے ساتھ ”قرآن مجید“ کی جمع و تدوین کا کام مکمل ہو گیا، تو صحابہٴ کرام نے آپس میں مشورہ کیا کہ: اس کو کیا نام دیا جائے؟ چنانچہ بعض صحابہٴ کرام نے اس کا نام ”سِفْر“ رکھا؛لیکن یہ نام یہودیوں کی مشابہت کی وجہ سے پاس نہیں ہوا، اخیر میں ”مصحف“ نام پر سارے صحابہٴ کرام کا اتفاق ہو گیا۔ (الاتقان ۱/۷۷)
          قرآن مجید کا یہ متفق علیہ نسخہ حضرت ابوبکر کے پاس ان کی وفات تک رہا، پھر حضرت عمر کے پاس رہا، جب ان کی بھی وفات ہو گئی تو ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس محفوظ رکھاگیا، جیسا کہ بخاری شریف کے حوالے سے گذر چکا ہے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس سے ہی منگوا کر نقول تیار کرائے تھے۔
نسخہٴ صدیق کی خصوصیت
          دوسرے صحابہٴ کرام کے پاس بھی قرآن مجید لکھا ہوا تھا؛ لیکن جن خصوصیات کا حامل حضرت ابوبکر صدیق والا اجماعی نسخہ تھا، ان سے دوسرے سارے نسخے خالی تھے، اسی وجہ سے صحابہٴ کرام کے درمیان اُسے ”اُم“ کہا جاتا تھا،اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں:
          ۱ ہر سورت کو الگ الگ لکھا گیا تھا؛ لیکن ترتیب بعینہ وہی تھی، جو سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی تھی (فتح الباری ۹/۲۲)
          ۲ اس نسخہ میں ساتوں حروف جمع تھے، جن پر قرآن مجید کا نزول ہوا۔ (مناہل العرفان ۱/۲۴۶، ۲۴۷)
          ۳ یہ نسخہ خط ”حِیَرِی“ میں لکھا گیا تھا۔ (تاریخ القرآن از مولانا عبد الصمد صارم# ص ۴۳)
          ۴ اس میں صرف وہ آیات لکھی گئی تھیں، جن کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی۔
          ۵ اس کو لکھوانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک مرتب نسخہ تمام امت کی ”اجماعی تصدیق“ سے تیار ہو جائے؛ تاکہ ضرورت پڑنے پر اس کی طرف رجوع کیا جا سکے (علوم القرآن از مفتی محمد تقی عثمانی ص۱۸۶)
          ۶ اس نسخہ میں قرآن مجید کی تمام سورتوں کو ایک ہی تقطیع اور سائز پر لکھوا کر، ایک ہی جلد میں مجلد کرایا گیا تھا، اور یہ کام حکومت کی طر ف سے انجام دیا گیا، جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ ہو پایا تھا، (تدوین قرآن ص۴۰)
          وکان القرآنُ فیھا مُنْتَشِراً فَجَمَعَھا جامعٌ و رَبَطَھَا بخیطٍ ۔ (الاتقان ۱/۸۳)
          (ترجمہ:) اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں قرآن مجید کی مکمل یاد داشتوں کا جو ذخیرہ تھا) اس میں (قرآنی سورتیں) الگ الگ لکھی ہوئی تھیں؛ پس اس کو (حضرت ابوبکر کے حکم سے) جمع کرنے والے (زید بن ثابت) نے ایک جگہ (ساری سورتوں کو) جمع کر دیا، اور ایک دھاگا سے سب کی شیرازہ بندی کر دی۔
          قرآن مجید کا یہ متفق علیہ نسخہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، جب ان وفات ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ رہا، جب ان کی بھی وفات ہو گئی تو (وصیت کے مطابق) آپ کی بیٹی ام الموٴمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رکھا رہا (صحیح بخاری ۲/۷۴۶)
عہدِ عثمانی میں امت کی شیرازہ بندی
           جس طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ جمعِ قرآن ہے، اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ پوری امت کو قرآن مجید کے اس متفق علیہ نسخہ پر جمع کرنا ہے جو ”عہدِ صدیقی“ میں تیار کیا گیا تھا، اس طرح امتِ مسلمہ کا شیرازہ بکھرنے سے انہوں نے بچا لیا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ:
          بالکل ابتداء میں مضمون و معنی کی حفاظت کرتے ہوئے الفاظ میں ادنی تبدیلی کے ساتھ پڑھنے کی اجازت بھی دی گئی تھی، (مناہل العرفان) جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور اسلام کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا، تو جن لوگوں نے مذکوہ بالا رعایتوں کی بنیاد پر اپنے اپنے قبائلی اور انفرادی لہجوں یا مختلف متواتر تلفظ کے لحاظ سے قرآن مجید کے مختلف نسخے لکھے تھے، انکے درمیان شدید اختلاف رونما ہو گیا؛ حتی کہ ایک دوسرے کی تکفیر کی جانے لگی، تو صحابہٴ کرامکے مشورے سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے تیار کردہ متفق علیہ نسخہ پر امت کو جمع کیا، اور اس کے علاوہ سارے نسخوں کو طلب کرکے نذرِ آتش کر دیا؛ تاکہ ”نہ رہے بانس نہ بجے بانسری“؛ چنانچہ اختلاف جڑ سے ختم ہو گیا (تفصیل کے لے دیکھئے: تدوینِ قرآن ۴۴، ۵۴، تحفة الالمعی ۷/۹۴،۹۵، مناہل العرفان وغیرہ)
کام کی نوعیت
          حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تیار کردہ نسخہ یہ کہہ کر منگوایا کہ ہم اس سے نقل تیار کرکے اصل آپ کو واپس کر دیں گے، چناں چہ حضرت حفصہنے وہ نسخہ بھیج دیا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے تین قریشی اور چوتھے انصاری صحابی کو پانچ یا سات نسخے لکھنے کا حکم فرمایا، قریشی صحابی میں، حضرت عبداللہ بن زبیر، سعید بن العاص اور عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام رضی اللہ عنہم تھے اور انصاری صحابی سے مراد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں۔
          ان سب کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ آپ حضرات کا اگر کسی جگہ رسم الخط میں حضرت زید سے اختلاف ہو تو اس لفظ کو قریش کے رسم الخط کے مطابق لکھیں؛ اس لیے کہ قرآن مجید قریش کی لغت میں نازل ہوا ہے (فتح الباری ۹/۲۲)۔
          معتبر روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ: پورے قرآن مجید کے کسی لفظ میں بھی ان لوگوں کااختلاف نہیں ہوا، ہاں! سورہٴ بقرہ میں ایک لفظ ”التابوت“ ہے، اس کے بارے میں حضرت زید کی رائے گول ”ة“ سے لکھنے کی تھی، اور حضرت سعید بن العاص، لمبی ”ت“ سے لکھنا چاہتے تھے، جب یہ بات حضرت عثمان غنی کے پاس پہنچی تو آپ نے لمبی ”ت“ سے لکھنے کا حکم فرمایا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: سیر أعلام النبلاء مع حاشیہ ۲/۴۴۱،۴۴۲)۔
          واضح رہے کہ مذکورہ بالا چار حضرات ”مجلس کتابت“ کے اساسی رکن تھے، ان کے علاوہ دوسرے حضرات کو بھی ان کے ساتھ کیا گیا تھا، فتح الباری میں ہے کہ حضرت عثمان نے قریش اور انصار کے بارہ افراد کو اس کے لیے جمع فرمایا تھا، ان میں مذکورہ چاروں حضرات کے علاوہ اُبی بن کعب، مالک بن ابی عامر، کثیر بن افلح، انس بن مالک اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ (فتح الباری ۹/۲۳)۔
عہد عثمانی میں تیار کردہ نسخوں کی خصوصیات
          ۱۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جو نسخہ تیار ہوا تھا، اس میں ساری سورتیں الگ الگ لکھی گئی تھیں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تمام سورتوں کو اسی ترتیب سے یکے بعد دیگرے ایک ہی مصحف میں لکھوایا۔ (فتح الباری ۹/۲۲)۔
          ۲۔قرآن مجید ایسے رسم الخط میں لکھا گیا کہ ممکن حد تک متواتر قرأتیں سما جائیں۔ (مناہل العرفان ۱/۲۵۳)
          ۳۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جن حضرات کو نسخہٴ قرآن تیار کرنے کے لیے مامور فرمایا تھا، ان حضرات نے اسی نسخہ کو بنیاد بنایا تھا جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تیار کیا گیا تھا، اسی کے ساتھ مزید احتیاط کے لیے وہی طریقہ اختیار فرمایا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اختیار کیا گیا تھا؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی متفرق تحریریں جو مختلف صحابہٴ کرام کے پاس محفوظ تھیں، انھیں دوبارہ طلب کیا گیا اور ان کے ساتھ از سرنو مقابلہ کر کے یہ نسخے تیار کیے گئے۔ (علوم القرآن ص۱۹۱)
عہدِ عثمانی میں تیار کردہ نسخوں کی تعداد
          اس سلسلے میں دو اقوال ہیں، ایک قول یہ ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے پانچ نسخے تیار کرائے تھے، یہی قول زیادہ مشہور ہے۔ (فتح الباری ۹/۲۴)اور دوسرا اقوال یہ ہے کہ حضرت عثمان نے سات نسخے تیار کرائے تھے، ایک نسخہ مدینہ منورہ میں رکھا گیا، اور بقیہ مکہ، شام، یمن، بحرین، بصرہ ور کوفہ میں ایک ایک کرکے بھیج دیا گیا، یہ قول ابن ابی داؤد سے ابو حاتم سجستانی نے نقل کیا ہے۔ (فتح الباری۹/۲۵)۔
امت میں پائے جانے والے دیگر مصاحف
          حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے صحابہٴ کرام اور تابعین عظام کے پاس موجود سارے نسخوں کو نذرِ آتش کرنے کا حکم نافذ فرما دیا (فتح الباری ۹/۱۳) تاکہ امتِ مسلمہ ایک رسم الخط پر متفق ہوجائے اور امت کی شیرازہ بندی باقی رہے۔
          اس وقت موجود بلا استثناء سارے صحابہٴ کرام نے حضرت عثمان کے اس کارنامے کی تائید و حمایت کی اور خوب خوب سراہا۔
عہد صدیقی والا نسخہ
           حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ام الموٴمنین حضرت حفصہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ والا نسخہ واپسی کے وعدے سے منگوایا تھا (فتح الباری ۹/۱۹) ؛اس لیے اس سے نقلیں تیار کرکے حسبِ وعدہ واپس فرما دیا۔ (فتح الباری۱۳۹)۔

تدوینِ قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ تدوینِ قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ Reviewed by محمد فاروق on فروری 13, 2019 Rating: 5
ads 728x90 B
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.